اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ صومالیہ کے قریب اغوا ہونے والے بحری جہاز ایم ٹی آنر 25 سے بازیاب کرائے گئے آخری تین پاکستانی عملہ ارکان وطن واپسی کے لیے عدیس ابابا سے کراچی روانہ ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق عمران علی، حسین یوسف اور محمد یاسین بدھ کو کراچی پہنچ کر اپنے اہل خانہ سے ملیں گے۔

اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا کہ ایتھوپیا کے دارالحکومت میں پاکستانی سفیر نے تینوں ملاحوں سے ملاقات کی اور قیام کے دوران ضروری سہولتیں اور خدمات فراہم کرنے کو یقینی بنایا۔ انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ اور وفاقی حکومت نے عملے کے ارکان کی محفوظ واپسی کے لیے کوششیں کیں۔

ایم ٹی آنر 25 کو اپریل میں صومالیہ کے قریب اغوا کیا گیا تھا۔ جہاز کے عملے میں پاکستانیوں کے علاوہ سات انڈونیشی، ایک بھارتی اور ایک سری لنکن شہری بھی شامل تھے۔ اغوا کے بعد کئی ماہ تک مذاکرات اور یرغمالیوں کی بازیابی کے معاملے میں پیش رفت محدود رہی۔ ذرائع ابلاغ کی سابقہ رپورٹس میں تاوان کی رقم تقریباً 30 لاکھ ڈالر بتائی گئی تھی، تاہم اس رقم اور ادائیگی کی تفصیلات کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں تھی۔

وزیر خارجہ نے تین پاکستانی ملاحوں کی واپسی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس واقعے میں جان سے جانے والے تین پاکستانی عملہ ارکان پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کے غم میں شریک ہے۔ ڈار کے مطابق پاکستان بحری قزاقی کے خلاف بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون اور ملاحوں و بحری راستوں کی سلامتی کے لیے کام جاری رکھے گا۔

یہ واقعہ بحر ہند اور صومالیہ کے اطراف تجارتی جہاز رانی کو درپیش قزاقی کے خطرات کی طرف دوبارہ توجہ دلاتا ہے۔ پاکستانی عملے کی واپسی سے اس مخصوص یرغمالی بحران کا ایک اہم انسانی پہلو مکمل ہونے کے قریب ہے، تاہم واقعے میں ہلاک ہونے والے ملاحوں کے خاندانوں کے لیے نقصان مستقل ہے۔ حکومتی بیان میں بازیابی کی تمام عملی تفصیلات یا ممکنہ مذاکرات کی شرائط ظاہر نہیں کی گئیں۔