اسلام آباد: پاکستان اور پولینڈ نے سکیورٹی، انٹیلی جنس شیئرنگ، انسداد دہشت گردی، غیر قانونی ہجرت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اتفاق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور پولینڈ کے وزیر و سربراہ کونسل آف منسٹرز توماش شیمونیاک کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں ہوا۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقوں نے باہمی قانونی معاونت سمیت مختلف مفاہمتی یادداشتوں کو جلد حتمی شکل دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ بھی طے پایا کہ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کی قیادت میں وزارت داخلہ کا وفد پولینڈ کا دورہ کرے گا تاکہ ادارہ جاتی روابط اور دوطرفہ تعاون کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔

ملاقات میں قانونی ہجرت اور روزگار کے مواقع بڑھانے پر بھی بات ہوئی۔ دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستانیوں کے لیے یورپ میں قانونی روزگار اور مائیگریشن کے راستے بڑھانا غیر قانونی نقل مکانی کی حوصلہ شکنی میں مدد دے سکتا ہے۔ پولش وزیر نے کہا کہ قانونی طریقے سے پولینڈ آنے والے پاکستانی شہریوں کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں پاکستان سے یورپ کی جانب غیر قانونی ہجرت میں 64 فیصد کمی آئی ہے۔ یہ شرح پاکستانی وزیر داخلہ کے بیان سے منسوب ہے؛ دستیاب سرکاری پریس ریلیز میں اس عدد کے حساب کا الگ تفصیلی ڈیٹا فراہم نہیں کیا گیا۔

دونوں فریقوں نے سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا فری سہولت کے امکان پر بھی گفتگو کی، تاہم اس مرحلے پر ایسی سہولت کے نفاذ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اسی طرح زیر بحث مفاہمتی یادداشتوں کو حتمی معاہدہ سمجھنے کے بجائے جاری مذاکرات کا حصہ قرار دینا درست ہوگا۔

ملاقات میں تجارت، کاروباری روابط اور عوامی سطح کے تعلقات بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔ پولش وفد نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا، جبکہ پاکستانی جانب نے یورپی یونین کے جی ایس پی پلس معاملے میں پولینڈ کے تعاون کو سراہا۔