اسلام آباد: سپریم کورٹ نے 2012 کے بلدیہ ٹاؤن فیکٹری آتشزدگی کیس میں دو ایم کیو ایم کارکنوں کی بریت کے خلاف سندھ حکومت کی نظرثانی درخواست مسترد کردی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے رواں سال 10 جون کو عبدالرحمان عرف بھولا اور زبیر عرف چریا کی قتل، بھتہ خوری، آتش زنی اور دہشت گردی کے الزامات میں سزائیں ختم کرتے ہوئے انہیں شک کا فائدہ دیا تھا۔

بدھ کو جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سندھ حکومت کی درخواست سنی۔ بینچ میں جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس شکیل احمد بھی شامل تھے۔ سندھ کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل سلیم اختر نے دلائل دیے۔ عدالت نے جون کے فیصلے پر نظرثانی کی استدعا مسترد کرنے کے ساتھ ایم کیو ایم سے متعلق فیصلے کے بعض ریمارکس حذف کرنے کے لیے دائر ایک الگ درخواست بھی خارج کردی۔ تفصیلی حکم بعد میں جاری ہونے کی توقع ہے۔

بلدیہ ٹاؤن میں علی انٹرپرائزز گارمنٹس فیکٹری میں 11 ستمبر 2012 کو لگنے والی آگ میں 260 سے زیادہ مزدور ہلاک ہوئے تھے اور یہ پاکستان کی تاریخ کے بدترین صنعتی سانحات میں شمار ہوتی ہے۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے ستمبر 2020 میں دونوں ملزمان کو سزائے موت سنائی تھی، جسے سندھ ہائی کورٹ نے 2023 میں برقرار رکھا۔ بعد ازاں ملزمان نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور جون 2026 میں عدالت عظمیٰ نے سزائیں ختم کردیں۔

سندھ حکومت نے جولائی میں دائر نظرثانی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ جون کے فیصلے میں حقائق، اقبالی بیان، مشترکہ ذمہ داری کے قانونی اصول اور بعض اہم شہادتوں کا درست جائزہ نہیں لیا گیا۔ صوبائی حکومت نے یہ بھی کہا تھا کہ استغاثہ کے اہم گواہوں، فیکٹری مالک، جوڈیشل مجسٹریٹ اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کو مناسب وزن نہیں دیا گیا۔ یہ صوبائی حکومت کے قانونی دلائل تھے جنہیں سپریم کورٹ نے نظرثانی کے مرحلے پر قبول نہیں کیا۔

جون کے تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ فوجداری مقدمے میں الزام ثابت کرنا استغاثہ کی ذمہ داری ہے اور محض امکانات، عمومی الزامات یا غیر قابلِ اعتماد شواہد سزا برقرار رکھنے کے لیے کافی نہیں ہو سکتے۔ عدالت نے یہ اصول بھی دہرایا تھا کہ کسی فرد کے مبینہ جرم کو پوری برادری یا سیاسی جماعت سے منسوب کرنے کے لیے ٹھوس اور قابلِ اعتماد ثبوت ضروری ہیں۔ تازہ حکم کے بعد دونوں کارکنوں کی بریت سے متعلق جون کا فیصلہ برقرار ہے۔