اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین کے سروس معاملات میں واضح، مربوط اور قابل پیش گوئی قواعد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ حکومت، جو ملک کا سب سے بڑا عوامی آجر ہے، اسے ’’مثالی آجر‘‘ کے طور پر طرز عمل اختیار کرنا چاہیے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یہ مشاہدات جسٹس عائشہ ملک کے تحریر کردہ چھ صفحات کے فیصلے میں سامنے آئے۔
عدالت نے کہا کہ تنخواہ، سینیارٹی، ترقی اور ریٹائرمنٹ محض انتظامی نوعیت کے معاملات نہیں بلکہ سرکاری ملازم کی پیشہ ورانہ سلامتی، ترقی اور وقار سے براہ راست تعلق رکھتے ہیں۔ فیصلے میں اس امر پر زور دیا گیا کہ اچھی حکمرانی صرف پالیسی بنانے تک محدود نہیں بلکہ قواعد کی تیاری اور ان کے عملی نفاذ میں بھی وضاحت کا تقاضا کرتی ہے۔
جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے پنجاب سروس ٹریبونل کے 24 مئی 2023 کے اس حکم کو کالعدم قرار دیا جس میں محکمہ تعلیم کی جانب سے ایک اسکول ٹیچر کی ترقی واپس لینے کے اقدام کو برقرار رکھا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ درخواست گزار اپنی ترقی واپس لیے جانے کی تاریخ سے متعلق تمام سابقہ مالی و سروس فوائد کا حق دار ہے۔
رپورٹ کے مطابق درخواست گزار نے 22 نومبر 1995 کو محکمہ تعلیم میں ایلیمنٹری اسکول ٹیچر، فزیکل ایجوکیشن ٹرینر، کی حیثیت سے ملازمت شروع کی تھی۔ اسے 31 اکتوبر 2020 کو اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر فزیکل ایجوکیشن، بی ایس 16، کے عہدے پر ترقی دی گئی، لیکن بعد میں 24 مئی 2023 کو ترقی کا حکم واپس لے لیا گیا۔ یہی اقدام عدالتی تنازع کی بنیاد بنا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سروس اسٹرکچر میں ملازم کے داخلے، ترقی کے مراحل اور آگے بڑھنے کی شرائط واضح ہونی چاہئیں۔ اگر قواعد میں مربوط ترقیاتی راستہ یا دستیاب آپشنز واضح نہ ہوں تو اس ابہام کا نقصان بالآخر ملازم کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جو اپنے ایسے حق کے لیے برسوں قانونی چارہ جوئی پر مجبور ہو سکتا ہے جسے قواعد میں پہلے ہی واضح ہونا چاہیے تھا۔
یہ فیصلہ مخصوص سروس تنازع سے متعلق ہے، تاہم عدالت کے مشاہدات سرکاری محکموں میں ملازمین کی ترقی اور دیگر سروس شرائط کی تشکیل و نفاذ کے لیے وسیع انتظامی اصول کی اہمیت بھی اجاگر کرتے ہیں۔

