مسلسل اپ ڈیٹس

نئی آٹو و آٹو پارٹس پالیسی 2026‑31 اور مقامی صنعت کے ردعمل

لیک شدہ مسودوں کے مطابق حکومت نے آٹو اینڈ آٹو پارٹس پالیسی 2026‑31 میں مکمل تیار گاڑیوں (CBU) اور بعض تیار شدہ پرزوں کی درآمدی ڈیوٹی مرحلہ وار کم کر کے 2030‑31 تک تقریباً 15 فیصد تک لانے کی تجاویز رکھی ہیں، جبکہ نیو انرجی وہیکلز کے لیے نسبتاً کم ٹیرف اور مقامی ویلیو ایڈیشن کے اہداف بھی زیرِ غور ہیں۔ مقامی آٹو پارٹس صنعت نے ان تجاویز پر تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ تیز رفتار تحفظ میں کمی مقامی سرمایہ کاری، مشینری اور روزگار (تقریباً 1,200 ادارے اور 300,000 براہِ راست ملازمتیں) پر دباؤ ڈال سکتی ہے؛ صنعت کا دعویٰ ہے کہ یہ شعبہ سالانہ طور پر تقریباً 600 ارب روپے ٹیکس دیتا ہے۔ مینوفیکچررز نے درآمدی سہولتوں کو مقامی پیداوار، ٹیکنالوجی منتقلی اور ویلیو ایڈیشن کے واضح اہداف سے جوڑنے کی متبادل تجاویز پیش کی ہیں۔ پالیسی کا حتمی متن سرکاری طور پر جاری نہیں ہوا اور اسے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے جائزے سے بھی گزارا جا رہا ہے؛ حتمی اثرات حتمی ٹیرف شیڈول، ویلیو ایڈیشن کی شرطیں، مرحلہ وار نفاذ اور سرمایہ کاری کے مراعات پر منحصر ہوں گے۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

نئی آٹو و آٹو پارٹس پالیسی 2026‑31 اور مقامی صنعت کے ردعمل | اردو ہیڈ لائنز