کراچی: پاکستان کی آٹو پارٹس صنعت نے مجوزہ آٹو اینڈ آٹو پارٹس پالیسی 2026-31 کے سامنے آنے والے مسودوں میں ٹیرف اور نیو انرجی وہیکلز سے متعلق تجاویز پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق پالیسی کو ستمبر میں اصولی منظوری دی گئی تھی اور بعد میں اسے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے جائزے کے لیے بھیجا گیا، تاہم حکومت نے ابھی مکمل حتمی متن عوامی طور پر جاری نہیں کیا۔ اس لیے زیر بحث شرحوں کو نافذ شدہ قواعد کے بجائے مجوزہ پالیسی کے نکات سمجھنا ضروری ہے۔
رپورٹ کے مطابق مسودے میں مکمل تیار شدہ گاڑیوں پر درآمدی ڈیوٹی کو 2031 تک 15 فیصد تک لانے کی سمت دی گئی ہے، جبکہ بعض مقامی طور پر تیار ہونے والے روایتی گاڑیوں کے پرزوں پر موجودہ بلند ڈیوٹی کو بھی 2030-31 تک 15 فیصد تک کم کرنے کی تجویز شامل ہے۔ نئی توانائی کی گاڑیوں اور ان کے بعض پرزوں کے لیے نسبتاً کم درآمدی ٹیرف کے ساتھ مقامی ویلیو ایڈیشن کی شرائط بھی زیر غور ہیں۔
آٹو پارٹس مینوفیکچررز کا مؤقف ہے کہ اگر درآمدی تیار شدہ پرزوں اور مقامی پیداوار کے درمیان تحفظ تیزی سے کم کیا گیا تو مقامی سرمایہ کاری، مشینری اور روزگار پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔ صنعت سے متعلق اعداد کے مطابق ملک میں تقریباً 1,200 پرزہ ساز ادارے کام کرتے ہیں اور اس شعبے سے لگ بھگ تین لاکھ براہ راست ملازمتیں وابستہ بتائی جاتی ہیں۔ رپورٹ میں صنعت کی سالانہ ٹیکس شراکت تقریباً 600 ارب روپے بیان کی گئی ہے۔
مینوفیکچررز کی نمائندہ تنظیم نے حکومت کو متبادل ٹیرف تجاویز پیش کی ہیں تاکہ نئی ٹیکنالوجی کی طرف منتقلی کے ساتھ مقامی پرزہ سازی کی صلاحیت بھی برقرار رکھی جا سکے۔ صنعت کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ الیکٹرک، ہائبرڈ اور دیگر نیو انرجی وہیکلز کے لیے درآمدی سہولتوں کو مقامی پیداوار، ٹیکنالوجی منتقلی اور ویلیو ایڈیشن کے واضح اہداف سے جوڑا جائے۔
دوسری جانب نئی وہیکل پالیسی کا مقصد پاکستان کی آٹو مارکیٹ کو جدید ٹیکنالوجی، کم اخراج والی گاڑیوں اور زیادہ مسابقت کی طرف منتقل کرنا ہے۔ کم درآمدی رکاوٹیں صارفین کے لیے زیادہ ماڈلز اور ممکنہ طور پر بہتر قیمتوں کا راستہ کھول سکتی ہیں، لیکن اگر مقامی سپلائی چین نئی ٹیکنالوجی کے مطابق بروقت اپ گریڈ نہ ہو تو مقامی صنعت کو سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پالیسی کے حتمی اثرات کا انحصار آخری منظور شدہ ٹیرف شیڈول، مقامی ویلیو ایڈیشن کی شرائط، مرحلہ وار نفاذ اور سرمایہ کاری کے لیے دی جانے والی سہولتوں پر ہوگا۔ چونکہ سرکاری حتمی متن ابھی سامنے نہیں آیا، اس مرحلے پر صنعت کے خدشات کو پالیسی کے ممکنہ نتائج کے بارے میں موقف کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ کسی نافذ شدہ فیصلے کے ثابت شدہ اثر کے طور پر۔
آٹو سیکٹر پاکستان کی مینوفیکچرنگ، ٹیکس وصولیوں اور روزگار میں اہم حصہ رکھتا ہے۔ اسی لیے نئی پالیسی میں درآمدی مسابقت اور مقامی صنعت کے تحفظ کے درمیان توازن مستقبل کی سرمایہ کاری اور ملک میں الیکٹرک و ہائبرڈ گاڑیوں کی تیاری کی رفتار کے لیے اہم ہوگا۔

