اسلام آباد: وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کی آئل ریفائنریز عالمی منڈی میں بلند قیمتوں کے اثر سے مقامی صارفین کو بچانے کے لیے تقریباً 15 ارب روپے ماہانہ کا بوجھ برداشت کریں گی، جس کے نتیجے میں پٹرول کی قیمت میں متوقع 15 روپے فی لیٹر اضافہ فی الحال روکا جائے گا۔ انہوں نے یہ اعلان وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

وزیر پیٹرولیم کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے آئل ریفائنریز سے مشاورت کی تھی تاکہ عالمی ایندھن قیمتوں کے بڑھنے کا مکمل اثر صارفین تک منتقل نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین ماہ میں ریفائنریز کو زیادہ تھروپٹ سے فائدہ ہوا اور اب ان سے مشکل حالات میں صارفین کے لیے تعاون کی درخواست کی گئی، جس پر انہوں نے قیمت میں ممکنہ اضافے کا ایک حصہ برداشت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ اس انتظام کے تحت ریفائنریز پر تقریباً 15 ارب روپے ماہانہ کا بوجھ آئے گا اور مقامی مارکیٹ میں پٹرول عالمی قیمت کے تقابل میں تقریباً 15 روپے فی لیٹر کم رکھا جا سکے گا۔ یہ اعداد حکومت اور وزیر کے بیان پر مبنی ہیں؛ ریفائنری کمپنیوں کی انفرادی مالی ذمہ داری، حساب کا مکمل طریقہ اور انتظام کی مدت سے متعلق تمام تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔

وزیر نے کہا کہ حکومت ریفائنری اپ گریڈیشن اور شعبے میں ڈی ریگولیشن کے عزم پر قائم ہے، لیکن موجودہ علاقائی بحران میں عوام کو ریلیف فوری ترجیح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بحران سے پہلے ریفائنری پریمیم پانچ ڈالر فی بیرل تھا جسے اب 20 ڈالر فی بیرل پر محدود کیا گیا ہے۔

وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق وزیراعظم نے ریفائنریز کو عالمی قیمتوں میں اضافے کا اثر جذب کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی فیول ریلیف اسکیم میں ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ منفرد صارفین رجسٹر ہو چکے ہیں اور تقریباً 27 ارب روپے مختص کیے جا چکے ہیں۔ حکومت نے بلند ایندھن قیمتوں کے تناظر میں کفایت شعاری کے بعض اقدامات بھی دوبارہ متعارف کرائے ہیں، جن میں بازار رات نو بجے بند کرنے اور سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کو تین ماہ کے لیے نصف کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔

دونوں وزرا نے ملک میں ایندھن کی قلت کے خدشے کو مسترد کیا۔ علی پرویز ملک کے مطابق نومبر کی ملکی ضروریات کے لیے سپلائی کا بندوبست مکمل ہے، جبکہ دسمبر اور جنوری کے لیے فیصلے بعد میں کیے جائیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ موسم سرما میں مسلسل سپلائی یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کو ضروری اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔

یہ انتظام صارفین کو فوری قیمت اضافے سے بچا سکتا ہے، تاہم اس کے طویل مدتی اثرات کا انحصار عالمی تیل قیمتوں، علاقائی صورتحال، ریفائنریز کی مالی گنجائش اور حکومت کے آئندہ قیمت سازی فیصلوں پر ہوگا۔