کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کو کاروبار کے دوران نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، تاہم دوپہر کے بعد خریداری آنے سے بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس مثبت زون میں بند ہونے میں کامیاب رہا۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق انڈیکس 154.81 پوائنٹس یا 0.09 فیصد اضافے کے ساتھ 166,564.06 پوائنٹس پر بند ہوا۔

کاروباری دن کے آغاز میں انڈیکس میں بہتری آئی لیکن صبح کے سیشن میں فروخت کے دباؤ نے اسے نیچے دھکیل دیا۔ بعد میں کچھ بحالی ہوئی مگر انڈیکس دوبارہ کمزور ہوا اور 165,585.42 پوائنٹس کی انٹرا ڈے کم ترین سطح تک پہنچا۔ دوپہر کے بعد خریداری میں تیزی آئی اور انڈیکس 166,989.76 کی بلند ترین سطح تک گیا، جس کے بعد اختتام تک کچھ منافع خوری کے باوجود معمولی مثبت تبدیلی برقرار رہی۔

ٹاپ لائن سکیورٹیز کے مارکیٹ جائزے کے مطابق سرمایہ کاروں نے ملکی مہنگائی کے خدشات اور عالمی خام تیل کی قیمتوں میں کمی کو سامنے رکھتے ہوئے محتاط رویہ اختیار کیا۔ منتخب کمرشل بینکنگ اور سیمنٹ کمپنیوں کے حصص میں خریداری نے انڈیکس کو سہارا دیا، جبکہ دیگر شعبوں میں منافع خوری نے مجموعی تیزی کو محدود رکھا۔

گزشتہ ہفتے پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے پانچ ہفتوں پر مشتمل مندی کا سلسلہ توڑا تھا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس ہفتہ وار بنیاد پر 4,034.37 پوائنٹس یا تقریباً 2.5 فیصد بڑھ کر 166,409.25 پر بند ہوا تھا۔ علاقائی کشیدگی میں ممکنہ کمی سے متعلق توقعات نے سرمایہ کاروں کے رجحان میں بہتری پیدا کی، تاہم پیر کے سیشن میں عالمی اور ملکی عوامل کے باعث احتیاط دوبارہ نمایاں رہی۔

پیر کو آل شیئر انڈیکس پر کاروباری حجم 443.43 ملین شیئر رہا، جو گزشتہ سیشن کے 825.47 ملین شیئر سے کم تھا۔ حصص کی مجموعی مالیت بھی 23.12 ارب روپے سے گھٹ کر 17.73 ارب روپے رہ گئی۔ مجموعی طور پر 496 کمپنیوں کے حصص میں کاروبار ہوا، جن میں 137 کی قیمتیں بڑھیں، 319 میں کمی آئی اور 40 بغیر تبدیلی کے بند ہوئیں۔

حجم کے اعتبار سے سینرجیکو پی کے 93.11 ملین شیئر کے ساتھ سرفہرست رہی، اس کے بعد پرویز احمد کنسلٹنسی کے 45.18 ملین اور ٹی پی ایل پراپرٹیز کے 30.10 ملین شیئرز کا کاروبار ہوا۔ اسی دوران پاکستانی روپیہ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں معمولی مضبوط ہو کر 276.72 پر بند ہوا۔

ایک دن کی معمولی مثبت بندش کو مستقل مارکیٹ رجحان نہیں سمجھا جا سکتا۔ آنے والے سیشنز میں مہنگائی، شرح سود کی توقعات، عالمی تیل کی قیمتیں، علاقائی سیاسی صورتحال اور کمپنی نتائج سرمایہ کاروں کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے رہیں گے۔