لاہور: پاکستان کی آٹو پارٹس بنانے والی صنعت نے حکومت کی نیو انرجی وہیکل پالیسی کے بعض پہلوؤں پر شدید تحفظات ظاہر کیے ہیں اور خبردار کیا ہے کہ اگر درآمدی گاڑیوں اور پرزوں کے لیے پالیسی مراعات کو مقامی صنعت کی مسابقتی صلاحیت کے ساتھ متوازن نہ کیا گیا تو سرمایہ کاری، مقامی پیداوار اور روزگار متاثر ہو سکتے ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق صنعت سے وابستہ تقریباً 1,200 مینوفیکچررز میں نئی پالیسی کے ممکنہ اثرات پر تشویش پائی جاتی ہے۔
آٹو پارٹس شعبے کے نمائندوں کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں گاڑیوں کے پرزے بنانے والی کمپنیوں نے کئی دہائیوں میں مقامی سپلائی چین، انجینئرنگ صلاحیت اور ہنرمند افرادی قوت تیار کی ہے۔ ان کے مطابق نئی توانائی کی گاڑیوں کی طرف منتقلی ضروری ہے، لیکن ایسی منتقلی میں مقامی ویلیو ایڈیشن اور موجودہ صنعتی بنیاد کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ صنعت کا مؤقف ہے، جبکہ پالیسی ساز برقی اور کم اخراج والی گاڑیوں کو توانائی اور ماحولیاتی اہداف سے جوڑتے ہیں۔
رپورٹ میں صنعت نے پالیسی کے متعدد نکات کو اپنے لیے بڑے چیلنج قرار دیا ہے۔ بنیادی خدشہ یہ ہے کہ مکمل تیار شدہ یا کم مقامی اجزا والی نئی توانائی کی گاڑیوں کے لیے سازگار درآمدی ڈھانچہ مقامی پرزہ سازوں کو قیمت اور حجم دونوں حوالوں سے نقصان پہنچا سکتا ہے۔ مقامی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کے لیے وقت، سرمایہ، تربیت اور واضح طویل مدتی قواعد درکار ہوتے ہیں تاکہ وہ روایتی انجن والی گاڑیوں سے برقی اور ہائبرڈ نظام کی سپلائی چین کی طرف منتقل ہو سکیں۔
پاکستان کی آٹو صنعت براہ راست اور بالواسطہ روزگار، اسٹیل، پلاسٹک، ربڑ، شیشہ، الیکٹرانکس اور انجینئرنگ سمیت کئی ذیلی شعبوں سے منسلک ہے۔ اسی وجہ سے گاڑیوں کی پالیسی میں تبدیلی کا اثر صرف اسمبلرز تک محدود نہیں رہتا۔ پرزہ سازوں کے مطابق اگر مقامی تیاری کے اہداف کمزور ہوئے تو پہلے سے موجود مشینری اور پیداواری صلاحیت کا استعمال بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب نیو انرجی وہیکل پالیسی کا وسیع مقصد پاکستان میں برقی اور کم اخراج والی ٹرانسپورٹ کو فروغ دینا، ایندھن کی درآمدی ضرورت کم کرنا اور نئی ٹیکنالوجی کی مارکیٹ پیدا کرنا ہے۔ اس مقصد اور مقامی صنعتی تحفظ کے درمیان توازن پالیسی کا اہم امتحان ہے۔ صنعت کی تشویش بذات خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ متوقع نقصانات لازماً واقع ہوں گے؛ اصل اثر درآمدی ڈیوٹی، مقامی تیاری کے تقاضوں، فروخت کے حجم اور سرمایہ کاری کے عملی فیصلوں سے واضح ہوگا۔
آٹو پارٹس مینوفیکچررز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پالیسی کے نفاذ میں مقامی سپلائرز کے لیے قابل عمل منتقلی کا راستہ رکھا جائے اور نئی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ آنے والے عرصے میں پالیسی کے ضابطوں اور صنعت کی سرمایہ کاری سے معلوم ہوگا کہ پاکستان برقی گاڑیوں کی طرف منتقلی کے ساتھ اپنی موجودہ صنعتی بنیاد کو کس حد تک برقرار اور جدید بنا پاتا ہے۔
