لندن: ایران اور قطری ثالثوں کے درمیان جنگ کے خاتمے سے متعلق مذاکرات میں ممکنہ پیش رفت کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں چار فیصد سے زیادہ گر گئیں۔ رائٹرز کے مطابق سرمایہ کاروں نے اس امکان کو قیمتوں میں شامل کرنا شروع کیا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب ہوئیں تو مشرق وسطیٰ میں تیل کی رسد اور جہاز رانی پر موجود دباؤ کم ہو سکتا ہے۔

پیر کو 1020 جی ایم ٹی تک برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 4.79 ڈالر، یعنی 4.2 فیصد، کمی کے ساتھ 108.64 ڈالر فی بیرل پر آ گئے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 4.41 ڈالر یا 4.2 فیصد کم ہو کر 99.71 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ قیمتوں میں یہ حرکت مذاکرات سے متعلق توقعات کی عکاسی کرتی ہے، کسی حتمی جنگ بندی یا سپلائی بحالی کی تصدیق نہیں۔

مذاکرات سے باخبر ایک عہدیدار کے مطابق ایرانی مذاکرات کار قطری ثالثوں کے ساتھ بات چیت کے بعد روانہ ہوئے اور ایک مسودہ تجویز گردش میں ہے، جبکہ مزید ملاقات کا امکان موجود ہے۔ تیل بروکر پی وی ایم کے تجزیہ کار تاماس ورگا نے نئے مہینے کے آغاز کو ایران سے متعلق تعطل میں پیش رفت کی نئی امیدوں سے جوڑا۔

مشرق وسطیٰ کی کشیدگی نے حالیہ عرصے میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں خطرے کا پریمیم شامل کیا ہے۔ ایران سے متعلق جنگ، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور ٹینکروں کی آمدورفت میں خطرات نے خلیجی برآمدات کے بارے میں خدشات بڑھائے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شامل ہے، اس لیے وہاں معمول کی نقل و حرکت میں رکاوٹ عالمی قیمتوں پر تیزی سے اثر ڈال سکتی ہے۔

تازہ کمی سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ صرف موجودہ سپلائی نہیں بلکہ مستقبل کے سیاسی امکانات پر بھی فوری ردعمل دیتی ہے۔ اگر مذاکرات ناکام ہوئے یا سکیورٹی صورتحال دوبارہ بگڑی تو خطرے کا پریمیم واپس بڑھ سکتا ہے۔ اس کے برعکس قابل اعتبار جنگ بندی، بحری راستوں کی بحالی یا برآمدی رکاوٹوں میں کمی قیمتوں پر مزید نیچے کی طرف دباؤ ڈال سکتی ہے۔

تیل کی بلند قیمتیں پاکستان جیسے خالص توانائی درآمد کنندہ ممالک کے لیے درآمدی بل، ٹرانسپورٹ لاگت، بجلی اور مہنگائی پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ تاہم ایک دن کی عالمی قیمت میں کمی فوری طور پر مقامی پٹرولیم قیمتوں میں اسی تناسب سے تبدیلی کی ضمانت نہیں دیتی، کیونکہ مقامی قیمتوں پر شرح مبادلہ، ٹیکس، لیویز، درآمدی لاگت اور قیمتوں کے سرکاری طریقہ کار بھی اثر ڈالتے ہیں۔

منڈی کی توجہ اب ایران، قطر اور دیگر ثالثوں کے آئندہ رابطوں پر رہے گی۔ فی الحال قیمتوں میں کمی امید پر مبنی مارکیٹ ردعمل ہے، جبکہ کسی مستقل رجحان کے لیے مذاکرات کے عملی نتائج اور خطے میں حقیقی سپلائی صورتحال زیادہ فیصلہ کن ہوں گے۔