الماتی: وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے وسطی ایشیائی ممالک کو پاکستان کی بندرگاہی اور زمینی رابطہ کاری کی صلاحیت استعمال کرتے ہوئے عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کی پیشکش کی ہے۔ قازقستان کے شہر الماتی میں دوسرے تیان شان فورم برائے وسطی ایشیائی اقتصادی و معیاری سرمایہ کاری کے افتتاحی اجلاس سے خطاب میں انہوں نے پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع، بندرگاہی ڈھانچے اور صنعتی استعداد کو علاقائی تجارت کے لیے اہم اثاثے قرار دیا۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سرکاری بیان کے مطابق وزیر سرمایہ کاری نے کہا کہ خشکی میں گھرے وسطی ایشیائی ممالک کے لیے پاکستان ایک تجارتی اور ٹرانزٹ راہداری کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر پورٹ کو ایسے ممکنہ گیٹ ویز قرار دیا جو سامان کی نقل و حرکت کے متبادل راستے فراہم کرنے، نقل و حمل کے روابط مضبوط بنانے اور بین الاقوامی بحری تجارتی راستوں تک رسائی میں مدد دے سکتے ہیں۔

قیصر احمد شیخ نے کراچی کی صنعتی اور تجارتی اہمیت پر خاص زور دیا۔ ان کے مطابق شہر کا موجودہ صنعتی ڈھانچہ، کاروباری سہولتیں، مالیاتی ادارے اور بندرگاہی نظام تجارت، صنعتی شراکت داری اور بیرونی سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے گوادر کی ممکنہ اہمیت کا بھی ذکر کیا، تاہم کسی مخصوص نئے ٹرانزٹ معاہدے، سرمایہ کاری رقم یا منصوبے کی منظوری کا اعلان نہیں کیا گیا۔

وزیر نے توانائی، بنیادی ڈھانچے، لاجسٹکس، ٹرانسپورٹ، مینوفیکچرنگ اور تجارت کو ان شعبوں میں شمار کیا جہاں علاقائی اور بین الاقوامی سرمایہ کار پاکستان میں امکانات کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بہتر رابطہ کاری اور قابل اعتماد توانائی کی فراہمی پورے خطے کی اقتصادی صلاحیت استعمال کرنے کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

انہوں نے وسطی ایشیا علاقائی اقتصادی تعاون پروگرام، کیریک، کے کردار کو بھی سراہا اور اسے ٹرانسپورٹ روابط، تجارتی سہولت کاری اور اقتصادی انضمام کے لیے مفید پلیٹ فارم قرار دیا۔ پاکستان کی حکومت حالیہ برسوں میں وسطی ایشیا کے ساتھ زمینی اور بحری روابط کو برآمدات، ٹرانزٹ تجارت اور سرمایہ کاری کی پالیسی سے جوڑنے پر زور دیتی رہی ہے۔

سرکاری بیان میں پاکستان کی نوجوان آبادی اور افرادی قوت کو بھی سرمایہ کاری کے تناظر میں نمایاں کیا گیا۔ وزیر کے مطابق حکومت توانائی کی ضروریات پوری کرنے، علاقائی رابطہ کاری بہتر بنانے اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے پر کام کر رہی ہے۔ فورم میں پیش کی گئی پیشکش پالیسی اور سرمایہ کاری کی دعوت ہے؛ کسی عملی تجارتی راہداری یا نئے سرمایہ کاری منصوبے کے نتائج متعلقہ ممالک، سرمایہ کاروں اور اداروں کے آئندہ معاہدوں اور منظوریوں سے مشروط ہوں گے۔