اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کے تحت اب تک 27 ارب روپے کی رعایت فراہم کی جا چکی ہے اور پروگرام میں رجسٹر ہونے والے افراد کی تعداد ڈیڑھ کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ انہوں نے یہ اعداد و شمار وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے ہمراہ اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کے دوران بتائے۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وزیر اطلاعات نے کہا کہ حالیہ قیمتوں کے تعین میں پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان تھا، تاہم وزیراعظم کی ہدایت پر اضافی بوجھ ریفائنریوں پر منتقل کیا گیا۔ حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد عالمی اور علاقائی حالات کے باعث بڑھتے ہوئے ایندھن کے اخراجات کا صارفین پر اثر محدود کرنا تھا۔

عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کے تحت موٹر سائیکل، چنگ چی رکشہ اور 800 سی سی تک کی گاڑیاں استعمال کرنے والے اہل صارفین سبسڈی والے نرخوں پر ایندھن حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے 15 ملین سے زیادہ رجسٹریشن اور 27 ارب روپے کی فراہم کردہ رعایت کو پروگرام کے استعمال کی علامت قرار دیا اور کہا کہ موجودہ حالات میں یہ سہولت جاری رکھی جائے گی۔

وزیر اطلاعات نے علاقائی صورتحال، بالخصوص باب المندب اور آبنائے ہرمز سے متعلق پیش رفت کو عالمی اور پاکستانی معیشت پر دباؤ کے عوامل میں شمار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود ملک کے میکرو اکنامک اشاریے مستحکم رکھے گئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے بیان کردہ یہ مؤقف سرکاری پریس بریفنگ کا حصہ ہے؛ اسکیم کے مجموعی مالی اثرات اور طویل مدتی بجٹ لاگت کا الگ تفصیلی تخمینہ اس بریفنگ میں جاری نہیں کیا گیا۔

ایندھن کی قیمتیں پاکستان میں نقل و حمل، اشیائے خورونوش کی ترسیل اور کاروباری لاگت پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں، اس لیے ہدفی سبسڈی کے ذریعے چھوٹی گاڑیوں اور دو و تین پہیوں والی سواریوں کے صارفین کو رعایت دینا عمومی قیمت میں کمی کے مقابلے میں مختلف پالیسی طریقہ ہے۔ اس نظام کی مؤثریت کا انحصار اہل صارفین کی درست شناخت، ادائیگی یا رعایت کے شفاف طریقہ کار اور مالی بوجھ کے انتظام پر ہوگا۔

حکومت نے نیوز کانفرنس میں اسکیم جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ تاہم مستقبل میں رعایت کی مقدار، اہلیت کے قواعد یا قیمتوں کے فارمولے میں کسی تبدیلی کی صورت میں متعلقہ سرکاری نوٹیفکیشن حتمی حیثیت رکھے گا۔