اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرتے ہوئے پیٹرول 3 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 76 پیسے فی لیٹر سستا کر دیا ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 3 نومبر 2026 سے ہوگا۔
نظرثانی کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 374 روپے 51 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 395 روپے 20 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ ڈان کے مطابق حکومت پیٹرول پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کی مد میں 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر وصول کر رہی ہے۔
حالیہ قیمتوں کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ نے پاکستان میں ایندھن کی لاگت پر مسلسل دباؤ رکھا ہوا ہے۔ حکومت نے اس سے قبل تیل صاف کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ ایک انتظام کا اعلان کیا تھا جس کے تحت ریفائنریز پیٹرولیم لیوی کے بوجھ میں حصہ ڈالیں گی۔ حکومتی موقف کے مطابق اس بندوبست سے صارفین کو عالمی قیمتوں کے مقابلے میں کچھ ریلیف دینا ممکن ہوا ہے۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ریفائنریز سے عوامی مشکلات کے پیش نظر تعاون کی درخواست کی گئی اور انہوں نے اس پر آمادگی ظاہر کی۔ حکومتی دستاویزات کے مطابق ریفائنریز پر مجموعی ماہانہ اثر تقریباً 15 ارب روپے بتایا گیا ہے۔
پیٹرول عام طور پر موٹر سائیکلوں، رکشوں، چھوٹی گاڑیوں اور نجی ٹرانسپورٹ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں تبدیلی براہ راست گھریلو بجٹ اور شہری آمدورفت کے اخراجات پر اثر ڈالتی ہے۔ دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ، بجلی پیدا کرنے والے یونٹس اور بڑے جنریٹرز میں استعمال ہوتا ہے، جس کے باعث اس کی قیمت میں کمی مال برداری اور دیگر کاروباری اخراجات کے لیے بھی اہم سمجھی جاتی ہے۔
حکومت نے عالمی توانائی منڈی کی غیر یقینی صورت حال کے دوران ایندھن کے استعمال میں کفایت شعاری کے اقدامات بھی دوبارہ متعارف کرائے ہیں۔ تازہ کمی کے باوجود پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں رواں سال کے آغاز کے مقابلے میں بلند سطح پر ہیں، اور آئندہ ردوبدل عالمی خام تیل، شرح مبادلہ اور سرکاری محصولات سمیت متعدد عوامل سے منسلک رہے گا۔
