بیجنگ: چین نے اسٹاک مارکیٹ میں حالیہ کمزوری کے بعد سرمایہ کار اعتماد بحال کرنے اور حصص کی خریداری کے لیے مالی وسائل بہتر بنانے کی غرض سے نئے حمایتی اقدامات متعارف کرائے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق پیپلز بینک آف چائنا نے ایسے لیکویڈیٹی اوزار استعمال کیے ہیں جن کا مقصد مارکیٹ میں ادارہ جاتی خریداری کی گنجائش بڑھانا ہے۔

اقدامات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب چینی حصص کو معاشی نمو، کارپوریٹ آمدن اور سرمایہ کار اعتماد سے متعلق خدشات کا سامنا ہے۔ حکام گزشتہ برسوں میں بھی مارکیٹ کے شدید اتار چڑھاؤ کے دوران سرکاری فنڈز، مالیاتی سہولتوں اور ضابطہ جاتی اقدامات کے ذریعے استحکام کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

تازہ پالیسی میں مرکزی بینک کی جانب سے مالیاتی اداروں کو لیکویڈیٹی فراہم کرنے کے طریقہ کار کو حصص خریداری کی حمایت سے جوڑا گیا ہے۔ اس کا مقصد مارکیٹ میں دستیاب سرمائے کی لاگت اور رسائی بہتر کرنا ہے تاکہ بڑے ادارے اور متعلقہ فنڈز ضرورت کے وقت حصص خرید سکیں۔

تاہم حکومتی یا مرکزی بینک کی حمایت مارکیٹ میں مستقل اضافے کی ضمانت نہیں ہوتی۔ حصص کی قیمتوں پر کمپنیوں کی آمدن، ملکی معاشی نمو، عالمی تجارت، شرح سود، سرمایہ کار توقعات اور جغرافیائی سیاسی عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی لیے تازہ اقدامات کے اثر کا اندازہ آنے والے تجارتی سیشنز اور سرمایہ کے بہاؤ سے ہوگا۔

چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے اور اس کی اسٹاک مارکیٹ میں بڑی تبدیلیاں ایشیائی اور عالمی سرمایہ کاروں کے رویے کو متاثر کر سکتی ہیں۔ پالیسی سازوں کے لیے ایک اہم چیلنج یہ ہے کہ قلیل مدتی مارکیٹ استحکام کے ساتھ معیشت کے بنیادی مسائل اور نجی شعبے کے اعتماد کو بھی بہتر کیا جائے۔

سرمایہ کار اب یہ دیکھیں گے کہ مرکزی بینک کی سہولتوں سے حقیقی شیئر خریداری کتنی بڑھتی ہے اور کیا یہ اقدامات طویل مدتی اعتماد میں تبدیل ہوتے ہیں۔ کسی مستقل بحالی کا فیصلہ صرف ابتدائی مارکیٹ ردعمل کے بجائے وسیع معاشی اور مالیاتی اعداد و شمار کی بنیاد پر کیا جا سکے گا۔