اسلام آباد: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے بیڑے میں پہلا بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر شامل ہوگیا ہے۔ ڈان کے مطابق لیز پر حاصل کیا گیا طیارہ پی کے 786 کے طور پر لندن سے اسلام آباد پہنچا، جہاں پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو عامر حیات اور دیگر حکام نے اس کا استقبال کیا۔ ایئرلائن کے ترجمان کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ کسی پاکستانی ایئرلائن نے بوئنگ 787-9 کو اپنے بیڑے میں شامل کیا ہے۔

بوئنگ 787-9 ایک طویل فاصلے تک پرواز کرنے والا دو انجنوں کا مسافر طیارہ ہے، جس میں ترتیب کے لحاظ سے 325 تک نشستیں ہو سکتی ہیں۔ پی آئی اے کے مطابق نئے طیارے میں جدید ان فلائٹ انٹرٹینمنٹ اور کشادہ کیبن سمیت ایسی سہولیات موجود ہیں جن کا مقصد طویل بین الاقوامی سفر میں مسافروں کے تجربے کو بہتر بنانا ہے۔

پی آئی اے نے گزشتہ ماہ نارویجین کمپنی نورس اٹلانٹک ایئرویز کے ساتھ ACMI لیز معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت دو بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر حاصل کیے جانے ہیں۔ ACMI انتظام میں عمومی طور پر طیارہ، عملہ، دیکھ بھال اور انشورنس فراہم کرنے والی کمپنی کی ذمہ داری میں شامل ہوتے ہیں۔ اسلام آباد پہنچنے والا طیارہ اس معاہدے کے تحت آنے والے دو طیاروں میں پہلا ہے۔

ایئرلائن کے ترجمان نے کہا کہ ڈریم لائنر کی شمولیت بیڑے کو جدید بنانے اور بین الاقوامی نیٹ ورک مضبوط کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ پی آئی اے کا ارادہ ہے کہ طویل فاصلے کے براہِ راست روٹس پر جدید طیاروں کی دستیابی بڑھا کر بڑھتی ہوئی طلب پوری کی جائے اور پاکستان کو بیرون ملک مزید مقامات سے جوڑا جائے۔ ترجمان کے مطابق 787-9 کو پاکستان اور برطانیہ کے درمیان براہِ راست طویل فاصلے کی پروازوں میں استعمال کیا جائے گا۔

ڈان کے مطابق ڈریم لائنر کی آمد سے پہلے پی آئی اے کے بیڑے میں 12 بوئنگ 777، 15 ایئربس اے 320 اور پانچ چھوٹے اے ٹی آر طیارے شامل تھے۔ نئے طیارے کی شمولیت سے طویل فاصلے کے آپریشنز میں اضافی گنجائش میسر آئے گی، تاہم کسی مخصوص نئے روٹ، فریکوئنسی یا تجارتی شیڈول کا انحصار ایئرلائن کی عملی منصوبہ بندی اور متعلقہ ریگولیٹری منظوریوں پر ہوگا۔

یہ پیش رفت پی آئی اے کی ملکیت میں تبدیلی کے بعد سامنے آئی ہے۔ گزشتہ سال نجکاری کے عمل میں عارف حبیب کارپوریشن کی قیادت میں کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی بولی کے ساتھ ایئرلائن کے 75 فیصد حصص حاصل کیے تھے۔ حکومت نے ستمبر میں واضح کیا تھا کہ وہ سابق قومی ایئرلائن کے لیے نئے طیارے خرید نہیں رہی، اس لیے موجودہ ڈریم لائنرز کا حصول خریداری کے بجائے لیز انتظام کے تحت ہے۔

پاکستان کی ہوا بازی صنعت کے لیے جدید طویل فاصلے کے طیارے کی شمولیت ایک اہم آپریشنل پیش رفت ہے، لیکن اس کے مالی اور تجارتی نتائج کا اندازہ مستقبل میں طیارے کے استعمال، روٹ نیٹ ورک، مسافر طلب اور آپریٹنگ لاگت کے اعدادوشمار سے ہوگا۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ پہلا 787-9 اسلام آباد پہنچ چکا ہے اور پی آئی اے نے اسے اپنی بین الاقوامی توسیع کی حکمت عملی سے جوڑا ہے۔