اسلام آباد: پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق اکتوبر 2026 میں صارف قیمت اشاریے (سی پی آئی) پر مبنی سالانہ مہنگائی 9.6 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق یہ شرح ستمبر میں 9.2 فیصد تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سالانہ بنیاد پر عمومی قیمتوں کے دباؤ میں معمولی اضافہ ہوا۔

پی بی ایس کے مطابق ماہانہ بنیاد پر اکتوبر میں صارف قیمت اشاریہ 1.8 فیصد بڑھا، جبکہ ستمبر میں ماہانہ اضافہ 0.9 فیصد تھا۔ مالی سال 2026-27 کے پہلے چار ماہ، یعنی جولائی سے اکتوبر، کے دوران اوسط مہنگائی 8.7 فیصد رہی۔ سرکاری اعدادوشمار قیمتوں کے مجموعی رجحان کی پیمائش کرتے ہیں اور مختلف اشیا و خدمات کے وزن کی بنیاد پر قومی سطح کا اشاریہ تشکیل دیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق شہری علاقوں میں سالانہ مہنگائی 9.5 فیصد اور دیہی علاقوں میں 9.7 فیصد ریکارڈ ہوئی۔ شہری صارفین کے لیے ماہانہ قیمتوں میں 1.6 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 2.1 فیصد اضافہ ہوا۔ خوراک، رہائش، بجلی، گیس، ایندھن، ٹرانسپورٹ اور دیگر روزمرہ اخراجات کے مختلف اجزا مجموعی سی پی آئی پر اثر انداز ہوتے ہیں، اس لیے گھرانوں کا حقیقی تجربہ ان کی کھپت کے انداز کے مطابق قومی اوسط سے مختلف ہو سکتا ہے۔

اکتوبر کے اعدادوشمار ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب حکومت اور اسٹیٹ بینک قیمتوں کے دباؤ، شرح سود اور معاشی سرگرمی کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مہنگائی میں کمی یا اضافہ مانیٹری پالیسی کے فیصلوں کے لیے ایک اہم اشاریہ ہوتا ہے، تاہم مرکزی بینک شرح سود طے کرتے وقت صرف ایک ماہ کے سی پی آئی کے بجائے مستقبل کی مہنگائی، بیرونی کھاتے، مالیاتی پالیسی اور مجموعی معاشی حالات سمیت متعدد عوامل کا جائزہ لیتا ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں پاکستان نے بلند مہنگائی، روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور توانائی و خوراک کی قیمتوں میں تیزی کا سامنا کیا ہے۔ حالیہ اعدادوشمار میں سالانہ شرح ماضی کی انتہائی بلند سطحوں سے کم ہے، لیکن تقریباً دو ہندسوں کے قریب مہنگائی کا مطلب یہ ہے کہ صارفین کے لیے قیمتوں کا دباؤ بدستور نمایاں ہے۔

پی بی ایس کے اعدادوشمار پالیسی سازوں کے لیے آئندہ مہینوں میں قیمتوں کے رجحان کا بنیادی حوالہ رہیں گے۔ خاص طور پر خوراک اور توانائی کی قیمتوں، درآمدی لاگت، شرح مبادلہ اور مالیاتی اقدامات میں تبدیلیاں آنے والے مہینوں کے سی پی آئی پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ اکتوبر کی رپورٹ کسی مستقبل کی شرح کی ضمانت نہیں دیتی بلکہ اس مہینے تک دستیاب سرکاری قیمتوں کے ڈیٹا کی تصویر پیش کرتی ہے۔