اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ہدایت کی ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں اور برآمدکنندگان کو درپیش ٹیکس سے متعلق مسائل باہمی تعاون سے حل کیے جائیں، جبکہ وزارت خزانہ ترجیحی شعبوں کے لیے قرضوں تک رسائی میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کی جامع حکمت عملی تیار کرے۔ وزیراعظم نے یہ ہدایات ایس ایم ایز، ہاؤسنگ اور زراعت کے لیے فنانسنگ سہولتوں کے جائزہ اجلاس میں دیں۔
وزیراعظم آفس کے مطابق شہباز شریف نے چھوٹے کاروباروں کے لیے قرض حاصل کرنا آسان بنانے کی غرض سے جامع رسک کوریج میکانزم کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایز، ہاؤسنگ اور زراعت کی ترقی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے کیونکہ ان شعبوں میں معاشی سرگرمی بڑھانے اور نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی بڑھانے کے لیے ضابطہ جاتی بہتری، حکومت اور بینکوں کے درمیان خطرات و اخراجات کی شراکت اور ڈیجیٹل سہولتوں کی توسیع پر کام کر رہا ہے۔ اسی سلسلے میں ایس ایم ای کنیکٹ ڈیجیٹل پورٹل متعارف کرایا گیا ہے، جس کے ذریعے کاروباری افراد قرض کے لیے درخواست دینے اور اس کی پیش رفت دیکھنے کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔
وزیراعظم کو دی گئی بریفنگ کے مطابق 23 اکتوبر تک وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت 86 ہزار 899 درخواستوں کے لیے 511 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری دی جا چکی تھی، جبکہ 15 ہزار 584 درخواست گزاروں کو 91 ارب روپے تقسیم کیے گئے۔ مجموعی ہاؤسنگ فنانس 455 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے اور اس سے ایک لاکھ 87 ہزار سے زائد قرض لینے والے مستفید ہوئے ہیں۔
زرعی شعبے میں قرضوں کا حجم 1,329 ارب روپے بتایا گیا، جس سے تقریباً 35 لاکھ افراد مستفید ہوئے، جبکہ ایس ایم ای فنانسنگ 1,148 ارب روپے تک پہنچی اور 342,458 کاروباروں کو قرض فراہم کیا گیا۔ حکومت نے مالی سال 2027 کے اختتام تک زراعت اور ایس ایم ای، دونوں شعبوں میں قرضوں کا حجم 1,500 ارب روپے تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
شہباز شریف نے بہتر کارکردگی دکھانے والے بینکوں کی تعریف کی، تاہم اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کو کہا کہ کسانوں، ایس ایم ایز اور اپنا گھر اسکیم کے مستحقین کو قرض دینے میں سست روی دکھانے والے بینکوں کو رعایت نہ دی جائے۔ ان کے مطابق نجی شعبے کی ترقی میں بینکوں کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور ترجیحی شعبوں کی فنانسنگ میں عملی تعاون ضروری ہے۔
اجلاس میں قرضوں کے طریقہ کار کو آسان بنانے، دستاویزی تقاضے کم کرنے اور ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے فنانسنگ تک رسائی بڑھانے کے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکومت نے ہاؤسنگ، زراعت اور ایس ایم ای شعبوں کے لیے رسک شیئرنگ اور کریڈٹ گارنٹی اقدامات متعارف کرائے ہیں۔ وزیراعظم نے ان کوششوں کو برآمدات، ویلیو ایڈیشن اور روزگار میں اضافے سے جوڑتے ہوئے متعلقہ اداروں کو عملی رکاوٹیں دور کرنے کی ہدایت کی۔
