اسلام آباد: وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ مقامی آئل ریفائنریز کے تعاون سے پٹرول کی قیمت میں وہ تقریباً 15 روپے فی لیٹر اضافہ صارفین تک منتقل نہیں کیا گیا جو عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے کے باعث متوقع تھا۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس انتظام کے تحت ریفائنریز تقریباً 15 ارب روپے ماہانہ کا مالی بوجھ برداشت کریں گی۔
وزیر پیٹرولیم کے مطابق عالمی توانائی منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ اور خطے کی کشیدہ صورتحال کے باعث درآمدی تیل کی لاگت بڑھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے مقامی ریفائنریز کے ساتھ مشاورت کی تاکہ ممکنہ قیمت اضافے کا پورا اثر عوام تک نہ پہنچے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ریفائنریز نے حالیہ مہینوں میں زیادہ پیداوار اور بہتر تھروپٹ سے حاصل ہونے والی گنجائش کو استعمال کرتے ہوئے عارضی طور پر صارفین کو ریلیف دینے پر آمادگی ظاہر کی۔
علی پرویز ملک نے بتایا کہ جمعہ کو پٹرول کی قیمت میں تقریباً 15 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان تھا، تاہم ریفائنریز کے تعاون اور حکومتی اقدامات کے باعث قیمت برقرار رکھی گئی۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے ملکی پٹرول کی قیمت عالمی منڈی کے تقابلی اثر سے تقریباً 15 روپے فی لیٹر کم رہے گی۔
حکومت نے اس اقدام کو عالمی تیل قیمتوں کے دباؤ سے صارفین کو بچانے کی کوشش قرار دیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ انتظام کتنی مدت تک جاری رہے گا یا اگر عالمی قیمتیں مزید بڑھیں تو موجودہ طریقہ کار میں کیا تبدیلی کی جائے گی۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پاکستان میں ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش کی ترسیل اور عمومی مہنگائی پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں، اس لیے کسی بھی بڑے اضافے یا ریلیف کے وسیع معاشی اثرات ہوتے ہیں۔
حکومتی اعلان کے مطابق موجودہ بندوبست میں ریفائنریز کا کردار مرکزی ہے اور فوری مقصد عالمی منڈی میں اضافے کا پورا بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے روکنا ہے۔ آئندہ قیمتوں کا انحصار عالمی خام تیل، درآمدی لاگت، شرح مبادلہ اور سرکاری پالیسی فیصلوں پر رہے گا۔
