کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے وطن بھیجی جانے والی ترسیلات زر کو باضابطہ مالیاتی ذرائع کی طرف منتقل کرنے کے لیے فیس اور مراعات کے نظام میں نئی تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں۔ عرب نیوز پاکستان کی رپورٹ کے مطابق مرکزی بینک کے اقدام کا مقصد خاص طور پر خلیجی ممالک سمیت دنیا بھر میں کام کرنے والے پاکستانیوں کے لیے رسمی بینکاری چینلز سے رقم بھیجنے کی لاگت اور رکاوٹیں کم کرنا ہے۔
پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اور بیرونی ادائیگیوں کے توازن میں کارکنوں کی ترسیلات زر ایک بنیادی ذریعہ ہیں۔ حکومت اور مرکزی بینک طویل عرصے سے بینکوں، ایکسچینج کمپنیوں اور دیگر منظور شدہ ذرائع کے ذریعے رقوم کی منتقلی کی حوصلہ افزائی کرتے رہے ہیں تاکہ غیر رسمی چینلز کے استعمال میں کمی آئے اور بیرونی کرنسی باقاعدہ مالیاتی نظام میں داخل ہو۔
رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک کی نئی ہدایات میں اہل ترسیلات پر مالیاتی اداروں کو دی جانے والی فیس یا مراعات کے طریقہ کار کو آسان اور زیادہ مؤثر بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس نوعیت کے انتظامات میں عموماً بیرون ملک سے رقم بھیجنے والے صارف کے لیے براہ راست چارج کم رکھنے کے بدلے مقامی بینک یا ادائیگی فراہم کنندہ کو مخصوص شرائط کے تحت معاوضہ دیا جاتا ہے۔ اصل قابل اطلاق شرح، حد اور اہلیت مرکزی بینک کے جاری کردہ قواعد اور متعلقہ بینک کی سروس شرائط کے مطابق ہوگی۔
پاکستانی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، بحرین اور کویت میں روزگار سے وابستہ ہے، اس لیے خلیجی ممالک سے آنے والی رقوم قومی ترسیلات زر میں نمایاں حصہ رکھتی ہیں۔ فیس میں کمی یا رسمی چینلز کی آسانی سے چھوٹی اور بار بار بھیجی جانے والی رقوم پر خاص اثر پڑ سکتا ہے، کیونکہ ایسے صارفین کے لیے ہر لین دین کی لاگت اہم ہوتی ہے۔
مرکزی بینک کی پالیسی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ قانونی اور دستاویزی مالیاتی چینلز کو غیر رسمی حوالہ اور ہنڈی نظام کے مقابلے میں زیادہ پرکشش بنایا جائے۔ باضابطہ ترسیلات زر نہ صرف وصول کنندگان کو ریکارڈ شدہ اور نسبتاً محفوظ ادائیگی فراہم کرتی ہیں بلکہ ملک کے زرمبادلہ کے اعدادوشمار اور بینکاری نظام کی شفافیت میں بھی اضافہ کرتی ہیں۔
نئی سہولت کے عملی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ بینک اور ادائیگی فراہم کرنے والے اسے کس رفتار سے نافذ کرتے ہیں، صارفین تک معلومات کیسے پہنچتی ہیں اور مختلف ممالک میں موجود ترسیلاتی شراکت دار کس طرح نئے قواعد کو اپنی خدمات میں شامل کرتے ہیں۔ اس لیے بیرون ملک پاکستانیوں کو رقم بھیجنے سے پہلے متعلقہ بینک یا منظور شدہ ریمیٹنس سروس سے موجودہ فیس، شرح مبادلہ اور اہلیت کی شرائط کی تصدیق کرنی چاہیے۔
