اسلام آباد: پاکستان میں گیس کی درآمد، ذخیرہ اور ترسیل کی صلاحیت بڑھانے کے لیے ایک امریکی حمایت یافتہ کنسورشیم نے تقریباً 4.4 ارب ڈالر کے بڑے ایل این جی انفراسٹرکچر منصوبے کی تجویز پیش کی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق منصوبے کے پہلے مرحلے میں پورٹ قاسم پر چار بڑے ذخیرہ ٹینک تعمیر کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے جن کی مجموعی گنجائش تقریباً 560,000 مکعب میٹر ہوگی۔

تجویز میں ساحلی ٹرمینل سے ملک کے بالائی حصوں تک تقریباً 1,100 کلومیٹر طویل گیس پائپ لائن بھی شامل ہے۔ اس بنیادی ڈھانچے کا مقصد درآمدی ایل این جی کو ذخیرہ کرنے اور اسے اندرون ملک صارفین اور توانائی کے مراکز تک پہنچانے کے لیے اضافی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ منصوبہ ابھی تجویز کے مرحلے میں ہے اور اسے حتمی سرمایہ کاری، سرکاری منظوریوں اور تجارتی معاہدوں سے گزرنا ہوگا۔

پاکستان کو موسم سرما میں گیس کی طلب اور مقامی پیداوار میں کمی کے باعث توانائی کی فراہمی کے دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔ درآمدی ایل این جی اس فرق کو پورا کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے، تاہم عالمی قیمتوں، جہاز رانی، ٹرمینل گنجائش اور ملکی پائپ لائن نیٹ ورک کی حدود کے باعث فراہمی کی لاگت اور دستیابی مسلسل پالیسی مسئلہ بنی رہتی ہے۔

مجوزہ منصوبے کا حجم اسے پاکستان کے گیس شعبے میں ایک بڑی ممکنہ نجی سرمایہ کاری بناتا ہے۔ پورٹ قاسم پہلے ہی ملک کے ایل این جی درآمدی ڈھانچے کا اہم مرکز ہے، اس لیے اضافی ذخیرہ گنجائش مستقبل میں کارگو کی وصولی اور طلب کے مطابق گیس کی ترسیل میں لچک پیدا کر سکتی ہے۔ تاہم کسی بھی نئے ٹرمینل یا طویل پائپ لائن کے لیے زمین، ماحولیاتی منظوری، ریگولیٹری اجازت، نرخوں اور طویل مدتی استعمال کے معاہدوں جیسے معاملات طے کرنا ضروری ہوں گے۔

رپورٹ میں دی گئی تفصیلات کسی مکمل شدہ سرمایہ کاری فیصلے کے بجائے ایک تجویز کی عکاسی کرتی ہیں۔ اس لیے منصوبے کی لاگت، تعمیراتی مدت اور عملی آغاز کی تاریخ حتمی منظوریوں کے بعد تبدیل ہو سکتی ہے۔ حکومت اور سرمایہ کاروں کے درمیان آئندہ مذاکرات یہ طے کریں گے کہ منصوبہ کس تجارتی ماڈل کے تحت آگے بڑھ سکتا ہے۔

اگر تجویز عملی شکل اختیار کرتی ہے تو اس کا بنیادی امتحان یہ ہوگا کہ آیا نئی درآمدی اور ترسیلی صلاحیت پاکستان کے موجودہ گیس نیٹ ورک کے ساتھ مؤثر طور پر منسلک ہو سکتی ہے اور صارفین کے لیے قابل برداشت قیمت پر توانائی کی دستیابی میں بہتری لا سکتی ہے۔