مسلسل اپ ڈیٹس

پورٹ قاسم: ایل این جی اسٹوریج، ری‑گیسیفکیشن اور پائپ لائن منصوبے کی تجویز

امریکی کمپنیوں کے ایک نجی کنسورشیم نے پورٹ قاسم پر مربوط مائع قدرتی گیس (ایل این جی) منصوبے کی تجویز پیش کی ہے۔ منصوبے میں ایل این جی ٹرمینل، چار اسٹوریج ٹینک (ہر ایک 140,000 مکعب میٹر؛ مجموعی 560,000 مکعب میٹر)، ری‑گیسیفکیشن اور تقریباً 1,100 کلومیٹر طویل (42–48 انچ) پائپ لائن شامل ہیں۔ مکمل مجوزہ سرمایہ کاری تقریباً 4.4 ارب ڈالر تک بتائی گئی ہے اور پہلے مرحلے کی لاگت تقریباً 1.7 ارب ڈالر بتائی گئی ہے؛ متوقع سالانہ تھروپٹ تقریباً 35 ارب مکعب فٹ اور پائپ لائن کی مجوزہ ترسیلی صلاحیت تقریباً 1.2 ارب مکعب فٹ یومیہ ہے۔ رپورٹ میں کنسورشیم میں گلوبل وژن انرجی پارٹنرز، خانجی ہولڈنگز اور دیگر فریقین کا ذکر ہے اور کچھ رپورٹس میں جنرل میڈیٹیرینین ہولڈنگ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ مجوزہ ابتدائی ٹیرف 4.93 ڈالر فی MMBtu اور پہلے دس برسوں کے لیے ترسیلی ٹیرف 1.91 ڈالر فی MMBtu بتائے گئے ہیں۔ یہ فی الحال ایک سرمایہ کاری کی تجویز ہے؛ منظوری، لائسنسنگ، سرمایہ کاری کے حتمی فیصلے اور حتمی معاہدے باقی ہیں اور اوگرا عبوری لائسنس کی درخواست کا ذکر بھی آیا ہے۔

2 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے