اسلام آباد: امریکی کمپنیوں پر مشتمل ایک نجی کنسورشیم نے پاکستان میں مائع قدرتی گیس کی درآمد، ذخیرہ، ری گیسیفکیشن، ترسیل اور بڑے صارفین کو فروخت کے لیے 4.4 ارب ڈالر تک کے ایک مربوط منصوبے کی تجویز پیش کی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق منصوبے کا مرکز پورٹ قاسم ہوگا اور اسے مرحلہ وار تیار کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ یہ فی الحال ایک مجوزہ سرمایہ کاری ہے؛ اسے حتمی یا منظور شدہ منصوبہ قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ مختلف ریگولیٹری، مالی اور تجارتی مراحل ابھی باقی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کنسورشیم میں گلوبل وژن انرجی پارٹنرز اور خانجی ہولڈنگز شامل ہیں، جبکہ دیگر اسٹریٹجک شریک سرمایہ کاروں کی شمولیت بھی زیر غور ہے۔ منصوبے کے اسپانسرز نے مبینہ طور پر پورٹ قاسم اتھارٹی سے مجوزہ مقام کے لیے رضامندی حاصل کی ہے اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کو عبوری لائسنس کے لیے درخواست دی گئی ہے۔ ایک خصوصی مقصد کی کمپنی بھی قائم کی گئی ہے، تاہم اس مرحلے پر سرمایہ کاری کے تمام حتمی وعدے طے نہیں ہوئے۔
پہلے مرحلے میں ایل این جی ٹرمینل اور ذخیرہ کرنے کی سہولت بنانے کی تجویز ہے جس میں چار ٹینک ہوں گے۔ ہر ٹینک کی گنجائش 140,000 مکعب میٹر بتائی گئی ہے، یوں مجموعی جامد ذخیرہ 560,000 مکعب میٹر ہوگا۔ اس مرحلے کی لاگت تقریباً 1.7 ارب ڈالر بتائی گئی ہے اور سالانہ تھروپٹ تقریباً 35 ارب مکعب فٹ رکھنے کا منصوبہ ہے۔ پاکستان میں اس وقت ایل این جی کی مستقل ذخیرہ گاہ نہ ہونے کے باعث درآمدی سپلائی چین میں خلل اور عالمی قیمتوں کی تبدیلی کا اثر فوری طور پر محسوس ہو سکتا ہے، اس لیے ذخیرہ کرنے کی صلاحیت منصوبے کا اہم جزو ہے۔
دوسرے مرحلے میں 1,100 کلومیٹر طویل اور 42 سے 48 انچ قطر کی پائپ لائن تعمیر کرنے کی تجویز ہے جو گیس کو ملک کے بالائی حصوں تک پہنچائے گی۔ رپورٹ کے مطابق اس کی مجوزہ ترسیلی صلاحیت تقریباً 1.2 ارب مکعب فٹ یومیہ ہوگی اور دونوں مراحل ملا کر مجموعی سرمایہ کاری 4.4 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ منصوبہ مرچنٹ ماڈل پر ترتیب دیا جا رہا ہے، یعنی اسے کسی ایک سرکاری خریداری ضمانت پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے مختلف تجارتی صارفین اور معاہدوں کے ذریعے چلانے کا تصور ہے۔
مجوزہ ٹرمینل اور اسٹوریج کے لیے ابتدائی ٹیرف 4.93 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اور پہلے دس برس کے لیے ترسیلی ٹیرف 1.91 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو بتایا گیا ہے۔ ری گیسیفکیشن سے متعلق ملکی ٹیرف کو اوگرا کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ممکنہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی شرکت ابھی جانچ پڑتال، داخلی منظوریوں اور حتمی معاہدوں سے مشروط ہے اور کوئی پابند ایکویٹی وعدہ تصدیق شدہ نہیں۔
منصوبے کی حتمی لاگت بھی انجینئرنگ، خریداری اور تعمیراتی معاہدوں سمیت دیگر تجارتی انتظامات طے ہونے کے بعد واضح ہوگی۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو ایک بڑی سرمایہ کاری تجویز اور ریگولیٹری عمل کے آغاز کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ تعمیر شروع ہونے یا فنڈنگ مکمل ہونے کی تصدیق کے طور پر۔
