کراچی: بلوچستان کے ریکوڈک تانبہ اور سونے کے بڑے منصوبے میں تجارتی پیداوار شروع ہونے کا ہدف 2028 سے مؤخر ہو کر 2030 تک جا سکتا ہے، تاہم منصوبے کی آپریٹر کمپنی بیرک مائننگ نے نئی حتمی تاریخ کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔ ڈان نے سرکاری ذرائع اور صنعت سے وابستہ افراد کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال اور پڑوسی ایران سمیت مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی سرمایہ کاروں اور منصوبہ بندی پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بیرک مائننگ نے رواں سال فروری میں ریکوڈک کا باضابطہ داخلی جائزہ شروع کیا تھا، جس کے ساتھ ترقیاتی سرگرمیوں کی رفتار کم کی گئی اور جائزے کی مدت 2027 کے اوائل تک بڑھائی گئی۔ گزشتہ ماہ ایک کان کنی فورم میں کمپنی کے چیف ایگزیکٹو نے کہا تھا کہ مکمل تعمیراتی شیڈول پر واپس جانے سے پہلے سکیورٹی صورتحال میں بہتری درکار ہے، تاہم انہوں نے کوئی نئی پیداواری تاریخ نہیں دی تھی۔

ڈان کے مطابق منصوبے کی انتظامیہ نے تقریباً 700 مستقل اور قریب دو ہزار کنٹریکٹ کارکنوں کو برقرار رکھا ہے، اگرچہ بعض تھرڈ پارٹی سروس معاہدے مدت پوری ہونے پر تجدید نہیں کیے گئے۔ منصوبے سے وابستہ بعض افراد کا کہنا ہے کہ تحقیق، انتظامی امور اور مقامی کمیونٹی کے ترقیاتی پروگرام جاری ہیں۔ بیرک اور وفاقی و بلوچستان حکومت کے متعلقہ سینئر حکام نے رپورٹ کے لیے فوری تبصرہ فراہم نہیں کیا، اس لیے 2030 کی تاریخ کو سرکاری طور پر حتمی شدہ شیڈول کے بجائے ممکنہ تاخیر کے اندازے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

ریکوڈک میں بیرک مائننگ کا 50 فیصد حصہ ہے، جبکہ باقی نصف میں بلوچستان حکومت اور پاکستان کی تین سرکاری کمپنیاں پاکستان پیٹرولیم، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی اور گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ شریک ہیں۔ منصوبہ پاکستان کے سب سے بڑے متوقع معدنی سرمایہ کاری منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پہلے مرحلے کی تخمینی سرمایہ کاری چار ارب ڈالر سے بڑھ کر تقریباً 5.6 ارب ڈالر ہو چکی ہے، جبکہ دوسرے مرحلے کے لیے مزید 3.5 ارب ڈالر درکار ہونے کا اندازہ ہے۔ اس طرح مجموعی سرمایہ جاتی لاگت تقریباً 9.1 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جو پہلے کے تقریباً سات ارب ڈالر کے تخمینے سے زیادہ ہے۔ ممکنہ مزید تاخیر کی لاگت پر صنعت کے ماہرین میں اختلاف ہے اور مختلف ذرائع نے بہت مختلف اندازے دیے ہیں، اس لیے کسی ایک اضافی لاگت کے عدد کو تصدیق شدہ نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

منصوبے کو روایتی اوپن پٹ کان کنی اور پروسیسنگ آپریشن کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔ پہلے مرحلے میں سالانہ تقریباً 45 ملین ٹن خام معدنی مواد پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھی گئی ہے، جسے دوسرے مرحلے میں 90 ملین ٹن تک بڑھانے کا تصور ہے۔ تازہ فزیبلٹی کے مطابق منصوبے کی بنیادی آپریشنل عمر 37 سال بتائی گئی ہے، تاہم مزید تلاش اور وسائل کی ترقی سے یہ مدت بڑھ سکتی ہے۔

ریکوڈک کی معاشی اہمیت روزگار، برآمدات اور طویل مدتی سرکاری آمدن کے امکانات سے جڑی ہے۔ موجودہ صورتحال میں بنیادی غیر یقینی عنصر تعمیراتی رفتار اور سکیورٹی حالات ہیں۔ اس لیے 2030 تک ممکنہ تاخیر ایک اہم پیش رفت ضرور ہے، مگر جب تک بیرک اور سرکاری شراکت دار نئی منظور شدہ ٹائم لائن جاری نہ کریں، اسے حتمی فیصلہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔