اسلام آباد: امریکی کمپنیوں پر مشتمل ایک نجی کنسورشیم نے پاکستان میں 4.4 ارب ڈالر تک کے مربوط مائع قدرتی گیس منصوبے کی تجویز پیش کی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق منصوبے میں ایل این جی کی درآمد، ذخیرہ، ری گیسی فکیشن، گیس کی ترسیل اور بڑے صارفین کو تجارتی بنیادوں پر فروخت شامل ہوگی۔ مجوزہ منصوبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کو توانائی کی فراہمی، درآمدی لاگت اور گیس کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق طویل مدتی فیصلوں کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کنسورشیم میں گلوبل وژن انرجی پارٹنرز اور خانجی ہولڈنگز کے ساتھ دیگر ممالک کے اسٹریٹجک شریک سرمایہ کار اور جنرل میڈیٹیرینین ہولڈنگ شامل ہیں۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں پورٹ قاسم پر چار ایل این جی اسٹوریج ٹینک تعمیر کرنے کی تجویز ہے جن کی مجموعی گنجائش 560,000 مکعب میٹر ہوگی۔ اسی وسیع منصوبے میں تقریباً 1,100 کلومیٹر طویل پائپ لائن کے ذریعے گیس کو ملک کے بالائی علاقوں تک پہنچانے کا تصور بھی شامل ہے۔
تجویز میں ٹرمینل اور ذخیرہ کرنے کی خدمات کے لیے 4.93 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اور پہلے دس برسوں میں ترسیل کے لیے 1.91 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو چارج کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ اعداد ابھی مجوزہ تجارتی ڈھانچے کا حصہ ہیں اور انہیں حتمی منظور شدہ نرخ نہیں سمجھا جا سکتا۔ کسی بھی بڑے توانائی منصوبے کی طرح اس تجویز کو بھی متعلقہ حکومتی اداروں، ریگولیٹری تقاضوں، مالی انتظام اور معاہداتی شرائط سے گزرنا ہوگا۔
اس پیش رفت کا پس منظر بھی اہم ہے۔ اس سے پہلے انرجیس، جس میں لکی گروپ اور قطر انرجی شامل تھے، اسی نوعیت کے منصوبے پر کام کر رہا تھا لیکن پاکستان کی توانائی پالیسی اور ضروریات میں بنیادی تبدیلیوں کے ساتھ دیرینہ پالیسی اور مالی مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے منصوبہ چھوڑ دیا گیا تھا۔ نئی تجویز اس شعبے میں نجی سرمایہ کاری کے لیے ایک مختلف ماڈل پیش کرتی ہے جس میں درآمد سے لے کر بڑے صارف تک پوری سپلائی چین کو ایک مربوط نظام میں رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
فی الحال یہ ایک سرمایہ کاری تجویز ہے، مکمل شدہ معاہدہ یا زیر تعمیر منصوبہ نہیں۔ اس لیے اس کی حتمی لاگت، ٹائم لائن، مالی بندوبست اور عملی نفاذ کا انحصار آئندہ مذاکرات اور منظوریوں پر ہوگا۔ اگر منصوبہ آگے بڑھتا ہے تو اس کے اثرات پاکستان کی ایل این جی درآمدی صلاحیت، ذخیرہ کرنے کی گنجائش اور طویل فاصلے کی گیس ترسیل کے بنیادی ڈھانچے تک پھیل سکتے ہیں۔
