اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں کے موجودہ ریگولیٹڈ نظام کو ختم کرکے درآمدی لاگت سے منسلک مارکیٹ بنیاد طریقہ کار اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم نئی پالیسی کے اہم حصوں کو وفاقی کابینہ کی حتمی منظوری درکار ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن کی مجوزہ گائیڈ لائنز میں اوگرا کی جانب سے مقامی اور درآمدی ایل پی جی کی ماہانہ زیادہ سے زیادہ قیمت کے نوٹیفکیشن ختم کرنے اور کم آمدن گھرانوں کے لیے ہدفی سبسڈی کا الگ انتظام شامل ہے۔
تجویز کے تحت پاکستان اسٹیٹ آئل، ایس ایس جی سی ایل پی جی، پارکو پرل گیس اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ جیسی سرکاری کمپنیاں عبوری مرحلے میں بڑی مقدار میں ایل پی جی درآمد کرکے حقیقی درآمدی لاگت کی بنیاد پر ماہانہ بنیادی قیمت کا اعلان کریں گی۔ اس حساب میں سعودی آرامکو کنٹریکٹ پرائس، درآمدی پریمیم، فریٹ، انشورنس، ضمنی اخراجات اور قابل اطلاق درآمدی ٹیکس شامل کیے جائیں گے۔
پیٹرولیم ڈویژن کا مؤقف ہے کہ موجودہ فارمولا درآمد شدہ ایل پی جی کی حقیقی لاگت کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔ سرکاری سمری میں بتایا گیا ہے کہ درآمدی پریمیم، فریٹ، انشورنس، بندرگاہ اور ٹرمینل اخراجات جیسے عناصر کی وجہ سے اوگرا کی مقررہ قیمت اور کھلی مارکیٹ کی قیمت میں نمایاں فرق پیدا ہوتا رہا ہے۔ جنوری سے جولائی 2026 کے دوران فلنگ پلانٹ کی قیمتیں بعض اوقات اوگرا کے صارف نرخ سے فی کلو 60 سے 79 روپے زیادہ رہیں، جبکہ مارچ میں فرق 158 روپے فی کلو تک پہنچا۔
نئے ڈھانچے میں ایک Producer-Price Differential Fund قائم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ مقامی پروڈیوسرز کے لیے قیمت سعودی آرامکو بینچ مارک سے منسلک رہے گی، جبکہ درآمدی برابری کی بنیادی قیمت اور مقامی پروڈیوسر قیمت کے فرق کو مخصوص سرکاری اکاؤنٹ میں جمع کیا جائے گا۔ حکومت کا ارادہ ہے کہ اس رقم سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے معیار یا حکومت کے منظور کردہ غربت اسکور پر پورا اترنے والے ایل پی جی صارفین کو ہدفی مالی مدد دی جائے۔
مجوزہ پالیسی میں مارکیٹنگ کمپنیوں کو اپنے مارجن اور فریٹ اخراجات طے کرنے کی گنجائش دی جائے گی، جبکہ مسابقتی کمیشن اور اوگرا کو ملی بھگت اور غیر مسابقتی رویے کی نگرانی کی ذمہ داری دی جائے گی۔ ٹیکس اور قانونی لیویز بدستور متعلقہ قوانین کے مطابق وصول ہوں گی۔ مقامی پیداوار کا ایک حصہ دور دراز، پہاڑی اور شمالی علاقوں کے لیے سرکاری مارکیٹرز کو مختص کرنے جبکہ باقی پیداوار شفاف نیلامی کے ذریعے فروخت کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
حکومتی دستاویز میں ایل پی جی درآمدی انفراسٹرکچر، غیر دستاویزی درآمدات، معیار کی جانچ اور حفاظتی مسائل کو بھی بڑے چیلنج قرار دیا گیا ہے۔ مستقبل میں بندرگاہی ذخیرہ، بڑے جہازوں کی رسائی، زمینی سرحدی مقامات پر معیار کی جانچ، سلنڈروں کی بارکوڈنگ اور غیر محفوظ منتقلی کے خلاف سخت اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
یہ پالیسی ابھی کابینہ کی حتمی منظوری اور بعد کے عملی قواعد سے مشروط ہے۔ اس لیے اسے فوری طور پر نافذ شدہ مکمل آزاد قیمت نظام سمجھنے کے بجائے حکومت کی منظور کردہ سمت اور کابینہ کے سامنے موجود مجوزہ فریم ورک کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
