اسلام آباد: بہبود یا پنشنر سرٹیفکیٹ سے آمدن حاصل کرنے والے ایک سینئر شہری کی جانب سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے خلاف وفاقی ٹیکس محتسب سے رجوع کیا گیا ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ زیر التوا شکایت اور ریٹرن جمع کرانے کی مدت میں توسیع کی درخواست کے باوجود یکم نومبر کو ٹیکس دہندہ کا اسٹیٹس ’ان ایکٹو‘ کردیا گیا۔ یہ معاملہ ابھی شکایت اور محتسب کے جائزے کے مرحلے میں ہے اور ایف بی آر کے خلاف الزامات کو حتمی فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق شکایت لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن کی پبلک انٹرسٹ لٹیگیشن کمیٹی کے چیئرمین وحید شہزاد بٹ نے اے ایچ بٹ اور اسی نوعیت کے دیگر پنشنرز، بہبود سیونگز سرٹیفکیٹ ہولڈرز اور شہدا فیملی ویلفیئر اکاؤنٹ ہولڈرز کی جانب سے دائر کی۔ شکایت میں چیئرمین ایف بی آر، متعلقہ ان لینڈ ریونیو ارکان اور آئی ٹی حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے دوسرے شیڈول کے تحت بہبود سرٹیفکیٹس کے منافع پر ٹیکس کی مخصوص رعایت لاگو ہوتی ہے، مگر آئی آر آئی ایس ریٹرن سافٹ ویئر مبینہ طور پر رعایت کے بعد کم ہونے والے ٹیکس کے بجائے اصل حساب پر سیکشن 4AB کا سرچارج لگا رہا ہے۔ شکایت میں ایک مثال کے ذریعے دعویٰ کیا گیا کہ اس طریقے سے 79 ہزار 613 روپے زائد واجب الادا دکھائے گئے، جبکہ درخواست گزار کے حساب کے مطابق درست حساب میں قابل ادائیگی بقایا صفر بنتا ہے۔
شکایت کے مطابق 24 اکتوبر کو ایف بی آر چیئرمین کو مبینہ حسابی مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے خط بھیجا گیا اور 31 اکتوبر کی مقررہ مدت ختم ہونے سے پہلے توسیع کی درخواست بھی جمع کرائی گئی۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ نہ تو توسیع کی درخواست پر فیصلہ ہوا اور نہ خط کا جواب دیا گیا، جبکہ یکم نومبر کو آن لائن تصدیقی نظام میں ٹیکس دہندہ کو ان ایکٹو ظاہر کرکے ریٹرن جمع کرانے یا ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں واپسی کے لیے 25 ہزار روپے سرچارج کا تقاضا سامنے آیا۔
وفاقی ٹیکس محتسب سے درخواست کی گئی ہے کہ ایف بی آر سے رپورٹ طلب کی جائے، متعلقہ ٹیکس دہندہ کا اے ٹی ایل اسٹیٹس بحال کیا جائے، تاخیر یا سرچارج کی کارروائی روکی جائے اور آئی آر آئی ایس کے حسابی طریقہ کار کا جائزہ لیا جائے۔ شکایت میں متاثرہ دیگر ٹیکس دہندگان کے لیے عمومی وضاحت جاری کرنے کی سفارش بھی مانگی گئی ہے۔
اس مرحلے پر وفاقی ٹیکس محتسب نے شکایت پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا اور دستیاب رپورٹ میں ایف بی آر کا تفصیلی جواب شامل نہیں۔ اس لیے معاملے کا بنیادی نکتہ ایک ٹیکس دہندہ اور نمائندہ کمیٹی کا انتظامی و قانونی اعتراض ہے، جس کی درست حیثیت محتسب کی کارروائی، ایف بی آر کے جواب اور متعلقہ ٹیکس قانون کی تشریح کے بعد واضح ہوگی۔ اگر شکایت میں بیان کردہ سافٹ ویئر مسئلہ وسیع پیمانے پر ثابت ہوتا ہے تو اس کے اثرات اسی نوعیت کی آمدن رکھنے والے دوسرے ٹیکس دہندگان تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

