اسلام آباد: نجکاری کمیشن نے سرکاری بجلی تقسیم کار کمپنیوں، یعنی ڈسکوز، کی نجکاری کے ساتھ پاور سیکٹر کے لیے ایک وسیع اصلاحاتی پیکج تجویز کیا ہے جس میں مختلف علاقوں اور سپلائرز کے لیے یکساں بجلی ٹیرف کے موجودہ نظام میں بنیادی تبدیلی بھی شامل ہے۔ ڈان کے مطابق یہ تجاویز ممکنہ سرمایہ کاروں کو طویل مدتی پالیسی اور ریگولیٹری وضاحت فراہم کرنے کے لیے تیار کی گئی ہیں، تاہم ابھی انہیں حتمی حکومتی منظوری حاصل نہیں ہوئی۔

مجوزہ خاکہ 25 صفحات پر مشتمل مسودے ’پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیز پوسٹ پرائیویٹائزیشن رجیم: مارکیٹ آرکیٹیکچر، بزنس ماڈلز اینڈ ریگولیٹری اوور سائٹ‘ میں بیان کیا گیا ہے۔ نجکاری کمیشن نے اسے متعلقہ وزارتوں، ریگولیٹرز اور سرمایہ کاروں کے پاس رائے کے لیے بھیجا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس تجویز کو رواں ہفتے وزیر اعظم کے سامنے پیش کیے جانے کی توقع ہے۔

اصلاحاتی تصور کے تحت بجلی کی تقسیم کے فزیکل نیٹ ورک اور صارفین کو بجلی فروخت کرنے کے کاروبار کو الگ کیا جائے گا۔ لائسنس یافتہ مسابقتی سپلائرز بجلی خرید سکیں گے، صارفین کے پورٹ فولیو سنبھالیں گے اور ریٹیل مارکیٹ میں مقابلہ کریں گے، جبکہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نیٹ ورک اور مارکیٹ دونوں کی نگرانی کرے گی۔ نجی سپلائرز خریداری لاگت، طلب، ادائیگی کے ریکارڈ اور سروس معیار کے مطابق مختلف نرخ اور معاہدے پیش کر سکیں گے۔

ساتھ ہی ’سپلائر آف لاسٹ ریزورٹ‘ کا ریگولیٹڈ انتظام برقرار رکھنے کی تجویز ہے تاکہ ایسے علاقوں یا حالات میں بجلی کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جا سکے جہاں مسابقتی مارکیٹ دستیاب نہ ہو یا کوئی سپلائر ناکام ہو جائے۔ اس نظام کے تحت محفوظ صارفین کے لیے سبسڈی شدہ نرخ اور بلنگ و وصولی کی بنیادی ذمہ داریاں بھی برقرار رکھی جا سکتی ہیں۔

مسودے میں ٹیرف ڈفرینشل سبسڈی کو مرحلہ وار کم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ پہلے مرحلے میں ایسے گھریلو صارفین کی نشاندہی پر توجہ ہوگی جو متعدد سنگل فیز کنکشنز کے ذریعے غیر مجاز طور پر محفوظ صارف کی حیثیت حاصل کرتے ہیں۔ بعد کے مراحل میں گھریلو ٹیرف ڈھانچے کو معقول بنانے اور ہدفی مالی مدد کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، قومی سماجی و اقتصادی رجسٹری اور یوٹیلیٹی ڈیٹا سے جوڑنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔

ایک اور اہم تجویز یہ ہے کہ موجودہ پانچ سالہ ملٹی ایئر ٹیرف مدت کو سات سال تک بڑھایا جائے۔ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی واپسی کو صرف اثاثوں سے منسلک رکھنے کے بجائے سروس معیار، آپریشنل کارکردگی اور لائن لاسز میں کمی سے جوڑنے کے لیے کارکردگی پر مبنی ماڈل بھی زیرِ غور ہے۔

یہ تمام نکات فی الحال مجوزہ اصلاحات ہیں، نافذ شدہ پالیسی نہیں۔ ان پر عمل درآمد کے لیے وفاقی حکومت کی منظوری، نیپرا کے قواعد، لائسنسنگ اور مارکیٹ سیٹلمنٹ کے انتظامات سمیت متعدد ریگولیٹری مراحل درکار ہوں گے۔ اس لیے صارفین کے موجودہ بجلی نرخ فوری طور پر تبدیل ہونے کا کوئی حتمی فیصلہ اس رپورٹ سے اخذ نہیں کیا جا سکتا۔