اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی ہے، جس کے تحت پیٹرول 3 روپے 40 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 76 پیسے فی لیٹر سستا ہوگیا۔ ڈان کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے نوٹیفکیشن میں نئی قیمتوں کا اطلاق 3 نومبر سے کیا گیا ہے۔
نظرثانی کے بعد پیٹرول کی نئی خوردہ قیمت 374 روپے 51 پیسے فی لیٹر مقرر ہوئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 395 روپے 20 پیسے فی لیٹر فروخت ہوگا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث عالمی تیل منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ اور پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں پر مسلسل دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔
حکومت پیٹرول پر مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔ قیمتوں میں حالیہ کمی سے ٹرانسپورٹ، زرعی سرگرمیوں اور ڈیزل پر انحصار کرنے والے کاروباری شعبوں کے اخراجات پر کچھ فوری ریلیف پڑنے کی توقع کی جاسکتی ہے، تاہم مجموعی اثر عالمی خام تیل کی قیمت، شرح مبادلہ اور آئندہ روزانہ قیمتوں کے تعین پر منحصر رہے گا۔
اس سے قبل پیر ہی کو وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بتایا تھا کہ مقامی آئل ریفائنریز تقریباً 15 ارب روپے ماہانہ کا بوجھ برداشت کریں گی تاکہ عالمی منڈی کے مقابلے میں صارفین کے لیے پیٹرول کی قیمت کم رکھی جاسکے۔ حکومت کے مطابق ریفائنریز نے گزشتہ تین ماہ میں زیادہ پیداوار سے حاصل ہونے والے منافع کے تناظر میں عوامی ریلیف کے لیے تعاون پر آمادگی ظاہر کی۔
حالیہ مہینوں میں ایندھن کی قیمتیں غیر معمولی سطح تک پہنچی تھیں۔ ڈان کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل 3 اپریل کو 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر کی بلند سطح تک گیا تھا، جبکہ پیٹرول اسی تاریخ کو 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر تک پہنچا۔ فروری کے آخر میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد بین الاقوامی سپلائی اور قیمتوں میں عدم استحکام نے پاکستان کی مقامی قیمتوں کو بھی متاثر کیا۔
حکومت نے عالمی قیمتوں کے تیز اتار چڑھاؤ کے باعث جولائی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ بنیاد پر طے کرنے کا طریقہ اپنایا تھا۔ اس کے ساتھ ایندھن کی بچت کے لیے بازار جلد بند کرنے اور سرکاری گاڑیوں کے فیول کوٹے میں عارضی کمی جیسے اقدامات بھی کیے گئے۔
پیٹرول چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری، بجلی پیدا کرنے والے یونٹس اور بڑے جنریٹرز کے لیے اہم ایندھن ہے۔ اس لیے دونوں مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی کے اثرات براہ راست صارفین کے علاوہ مال برداری اور اشیائے ضروریہ کی لاگت تک منتقل ہوسکتے ہیں۔
