اسلام آباد: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے بورڈ نے ایڈرین ہیملٹن مینز کو قومی ایئرلائن کا نیا چیف ایگزیکٹو افسر مقرر کر دیا ہے۔ پی آئی اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ان کی تقرری ایئرلائن کی جاری تنظیم نو اور تجارتی تبدیلی کے ایک نئے مرحلے میں کی گئی ہے۔ کمپنی نے کہا ہے کہ ہیملٹن مینز عالمی ہوا بازی کے شعبے میں 30 سال سے زیادہ تجربہ رکھتے ہیں اور اس سے قبل تین ایئرلائنز میں چیف ایگزیکٹو کی ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔

ڈان کے مطابق پی آئی اے نے نئے چیف ایگزیکٹو کی تقرری کا اعلان کرتے ہوئے سبکدوش ہونے والے سی ای او ایئر وائس مارشل امیر حیات کی خدمات کو بھی سراہا۔ کمپنی کے بیان میں کہا گیا کہ امیر حیات نے تقریباً ساڑھے چار سال کے دوران ساختی اصلاحات، آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے اور نجکاری کے مرحلے کے لیے ایئرلائن کی تیاری میں کردار ادا کیا۔ یہ پی آئی اے کا ادارہ جاتی مؤقف ہے اور نئی انتظامیہ کی عملی کارکردگی کا جائزہ آنے والے مالی اور آپریشنل نتائج سے ہوگا۔

پی آئی اے کے مطابق ہیملٹن مینز کو خسارے یا تبدیلی کے مرحلے سے گزرنے والی ایئرلائنز کی بحالی اور انتظام کا تجربہ حاصل ہے۔ فوربز مڈل ایسٹ کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا کہ وہ عمان کی سلام ایئر اور قازقستان کی فلائی اریستان کے چیف ایگزیکٹو رہ چکے ہیں، جبکہ جنوبی افریقی ایئرویز اور ورجن آسٹریلیا میں بھی مختلف ذمہ داریاں ادا کر چکے ہیں۔

قومی ایئرلائن کی ملکیتی اور انتظامی ساخت گزشتہ ایک سال میں نمایاں طور پر تبدیل ہوئی ہے۔ دسمبر 2025 میں عارف حبیب کارپوریشن کی قیادت والے کنسورشیم نے نیلامی میں پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کے لیے 135 ارب روپے کی کامیاب بولی دی تھی۔ کنسورشیم نے جون 2026 میں انتظام سنبھالنے کے بعد آپریشنل تنظیم نو، بیڑے میں توسیع اور مسافر خدمات بہتر بنانے کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا۔

نئے چیف ایگزیکٹو کی تقرری ایسے وقت ہوئی ہے جب پی آئی اے اپنے بین الاقوامی نیٹ ورک اور طیاروں کے بیڑے میں تبدیلیاں کر رہی ہے۔ ایک روز قبل لیز پر حاصل کیا گیا پہلا بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر لندن سے اسلام آباد پہنچا، جسے طویل فاصلے کے روٹس اور فلیٹ جدید کاری کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

ہیملٹن مینز کے سامنے اہم چیلنجز میں آپریشنل کارکردگی، روٹ منافع، بیڑے کا مؤثر استعمال، خدمات کے معیار اور نجی ملکیت کے تحت پائیدار مالی نتائج شامل ہوں گے۔ پی آئی اے نے ان کی تقرری کو مستقبل کی تجارتی پائیداری سے جوڑا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ ایک انتظامی تبدیلی ہے؛ اس کے مالی اور سروس نتائج آئندہ کارکردگی کے اعداد و شمار سے واضح ہوں گے۔