اسلام آباد: پاکستان اور بنگلہ دیش نے صنعتی تعاون کے نئے شعبوں کی نشاندہی اور باہمی فائدے پر مبنی شراکت داری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت وزیر اعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان اور بنگلہ دیشی وفد کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی، جس کی قیادت بنگلہ دیش کے مالیات و منصوبہ بندی سے متعلق سینئر عہدیدار راشد المہ محمود تتومیر کر رہے تھے۔
سرکاری ریڈیو پاکستان کے مطابق پاکستانی جانب نے سولر ٹیکنالوجی، بیٹری مینوفیکچرنگ، الیکٹرک گاڑیوں اور وسیع تر صنعتی ترقی کو ایسے شعبوں میں شمار کیا جہاں دونوں ملک تعاون کے عملی امکانات تلاش کر سکتے ہیں۔ ملاقات میں صنعتی شراکت داری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، مشترکہ منصوبوں اور مصنوعات میں زیادہ مقامی قدر شامل کرنے کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔
ہارون اختر خان نے برآمدات پر مبنی نمو، مینوفیکچرنگ میں توسیع، صنعتی پیداواری صلاحیت اور ویلیو ایڈیشن کو دوطرفہ اقتصادی تعاون مضبوط کرنے کے اہم ستون قرار دیا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک اگر کاروباری اداروں اور صنعتوں کے درمیان براہ راست روابط بڑھائیں تو روایتی تجارت سے آگے بڑھ کر پیداواری شراکت داری کی طرف جا سکتے ہیں۔
بنگلہ دیشی وفد کی جانب سے بھی پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور صنعتی روابط بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔ ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مضبوط دوطرفہ رابطہ دونوں معیشتوں کے لیے نئی کاروباری اور سرمایہ کاری کی گنجائش پیدا کر سکتا ہے۔ تاہم دستیاب سرکاری بیان میں کسی مخصوص مشترکہ منصوبے، سرمایہ کاری کی مالیت، پیداواری پلانٹ یا عمل درآمد کی حتمی مدت کا اعلان نہیں کیا گیا۔
اس لیے موجودہ پیش رفت کو پالیسی سطح پر تعاون بڑھانے اور ممکنہ شعبوں کی نشاندہی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ کسی طے شدہ سرمایہ کاری معاہدے کے طور پر۔ سولر آلات، بیٹریوں اور برقی گاڑیوں جیسے شعبوں میں عملی تعاون کے لیے سرمایہ کاری شرائط، تجارتی قواعد، تکنیکی معیار، کسٹمز انتظامات اور نجی شعبے کی شمولیت جیسے معاملات پر مزید کام درکار ہوگا۔
پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں بڑی آبادی اور بڑھتی ہوئی صنعتی ضروریات رکھنے والی جنوبی ایشیائی معیشتیں ہیں۔ توانائی کی لاگت، برآمدی مسابقت اور نئی مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی تک رسائی دونوں کے لیے اہم پالیسی موضوعات ہیں۔ ایسے میں قابل تجدید توانائی اور نئی گاڑیوں کی ٹیکنالوجی میں تعاون، اگر تجارتی منصوبوں میں تبدیل ہوتا ہے، تو سپلائی چین، مقامی پیداوار اور تکنیکی مہارت کے تبادلے کے لیے نئی گنجائش پیدا کر سکتا ہے۔
ملاقات کے بعد اگلا اہم مرحلہ یہ ہوگا کہ دونوں حکومتیں اور متعلقہ کاروباری ادارے شناخت کیے گئے شعبوں کو قابل عمل منصوبوں، مشترکہ سرمایہ کاری یا ٹیکنالوجی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے لیے کیا ادارہ جاتی طریقہ کار اختیار کرتے ہیں۔
