اسلام آباد: صنعتی شعبے کے نمائندوں نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی، نیپرا، کے سامنے دعویٰ کیا ہے کہ نیشنل گرڈ کمپنی کے ترسیلی نظام میں رکاوٹوں اور بجلی کی غیر مستحکم فراہمی کے باعث صنعت کو سالانہ تقریباً 400 ارب روپے کا معاشی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق یہ مؤقف نیپرا میں ہونے والی سماعت کے دوران پیش کیا گیا، جہاں صنعت نے گرڈ کی کارکردگی، ترسیلی صلاحیت اور بجلی کی فراہمی کے معیار پر تحفظات ظاہر کیے۔
یہ 400 ارب روپے کا تخمینہ صنعتی نمائندوں کا دعویٰ ہے، نیپرا کی جانب سے حتمی طور پر تصدیق شدہ نقصان کا سرکاری تعین نہیں۔ نمائندوں کے مطابق گرڈ میں رکاوٹ، ٹرپنگ اور فراہمی کے مسائل سے پیداواری عمل متاثر ہوتا ہے، مشینری بند ہونے، دوبارہ پیداوار شروع کرنے اور متبادل انتظامات پر اضافی لاگت آتی ہے، جبکہ برآمدی آرڈرز کی بروقت تکمیل بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے ریگولیٹر سے مطالبہ کیا کہ ترسیلی نظام کی کمزوریوں کے ازالے اور قابل اعتماد بجلی کی فراہمی کے لیے واضح اصلاحاتی اقدامات کیے جائیں۔
پاکستان کا بجلی کا نظام پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے مختلف حصوں پر مشتمل ہے۔ نیشنل گرڈ کمپنی ملک کے بڑے ترسیلی نیٹ ورک کے انتظام میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے، جبکہ تقسیم کار کمپنیاں بجلی صارفین تک پہنچاتی ہیں۔ اگر ترسیلی نیٹ ورک کی صلاحیت طلب یا دستیاب پیداوار کے مطابق نہ ہو تو بعض علاقوں میں بجلی کی منتقلی محدود ہو سکتی ہے اور نظامی رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے نئی پیداواری صلاحیت کے ساتھ گرڈ میں سرمایہ کاری اور اپ گریڈیشن کو بھی توانائی منصوبہ بندی کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔
صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی قابل اعتماد فراہمی محض توانائی کا مسئلہ نہیں بلکہ پیداواری لاگت، برآمدی مسابقت اور سرمایہ کاری سے بھی براہ راست منسلک ہے۔ بجلی کی بندش یا وولٹیج میں شدید اتار چڑھاؤ مسلسل پیداواری عمل رکھنے والی صنعتوں میں خام مال کے ضیاع، مشینری کے نقصان یا پیداوار کے معیار میں کمی کا سبب بن سکتا ہے۔ تاہم مختلف صنعتوں اور علاقوں میں نقصان کی نوعیت اور حجم مختلف ہو سکتا ہے، اس لیے مجموعی معاشی اثر کے درست تعین کے لیے تفصیلی ڈیٹا اور آزادانہ تجزیہ ضروری ہوگا۔
نیپرا کی سماعت میں سامنے آنے والے تحفظات کے بعد توجہ اس بات پر رہے گی کہ ریگولیٹر اور نیشنل گرڈ کمپنی ترسیلی رکاوٹوں، سرمایہ کاری کی ضروریات اور منصوبوں کی تکمیل سے متعلق کیا عملی اقدامات اختیار کرتے ہیں۔ صنعتی شعبے کا مؤقف ہے کہ قابل اعتماد گرڈ کے بغیر بجلی کی دستیابی کا مکمل معاشی فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکتا، جبکہ کسی بھی اصلاحی پروگرام کی کامیابی کو ٹرپنگ میں کمی، ترسیلی صلاحیت میں اضافہ اور صارفین کو زیادہ مستحکم فراہمی جیسے قابل پیمائش نتائج سے جانچا جائے گا۔

