مسلسل اپ ڈیٹس

کپاس کی پیداوار بحالی: بیج منظوری اور درآمدی جرمن پلازم تک رسائی تیز کرنے کا وفاقی منصوبہ

وفاقی حکومت نے کپاس کی گرتی پیداوار کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مقامی تحقیق و بیج کو مضبوط کرنے، درآمدی بیج/جرمن پلازم (germplasm) تک رسائی اور ضابطہ جاتی منظوری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اصلاحات شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل، نیشنل سیڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی اور پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی پر مشتمل تین رکنی کمیٹی قائم کی جائے گی جو بیرونِ ملک سے موزوں کرم پلازم کے تکنیکی و مالی تقاضے اور منظوری کا جائزہ لے گی۔ محکمۂ تحفظِ نباتات کو Pest Risk Analyses اور Controlled Import Permits پر کام تیز کرنے کی ہدایت دی گئی؛ موجودہ منظوری کا عمل کئی سال لیتا ہے جبکہ مجوزہ ’فاسٹ ٹریک‘ مدت 12 سے 18 ماہ رکھی گئی ہے، اس دوران سائنسی جانچ، بایوسیکیورٹی اور بایو سیفٹی تقاضوں کے ساتھ سمجھوتہ نہ کرنے کی یقین دہانی بھی کی گئی۔ اجلاس میں چین، ترکی، شام، کینیا، امریکا، میکسیکو، کرغزستان اور آسٹریلیا کے ساتھ بیج و تکنیکی تعاون کی موجودہ رابطہ کاری کا ذکر اور مشینی چنائی، علاقائی موسمی حالات کے مطابق اقسام کی منظوری اور سرکاری تحقیقی اداروں کے کارکردگی اہداف جیسی اصلاحاتی شقیں زیرِ غور آئیں۔ حکومت نے کہا کہ یہ پالیسیاں سمت متعین کرتی ہیں مگر کپاس کی پیداوار یا کاشت کاروں کی آمدنی میں حقیقی بہتری کا انحصار آئندہ فصلوں، منظور شدہ بیجوں اور عملی نفاذ کے نتائج پر ہوگا۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

کپاس کی پیداوار بحالی: بیج منظوری اور درآمدی جرمن پلازم تک رسائی تیز کرنے کا وفاقی منصوبہ | اردو ہیڈ لائنز