وفاقی حکومت نے کپاس کی گرتی ہوئی پیداوار کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے بیج، تحقیق، ضابطہ جاتی منظوری اور مشینی کاشت پر مرکوز اصلاحات تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے متعلقہ اداروں کو کپاس کی بحالی کی حکمت عملی پر تیز رفتاری سے عملی اقدامات کی ہدایت کی۔

سرکاری پریس ریلیز کے مطابق اجلاس میں خاص طور پر پنجاب میں کپاس کے زیر کاشت رقبے اور پیداوار میں مسلسل کمی کا جائزہ لیا گیا۔ حکام اور صنعت کے نمائندوں نے کم پیداوار، بڑھتی لاگت، کسانوں کے منافع میں کمی، کاٹن لیف کرل وائرس، کیڑوں، موسمیاتی تغیر، کم معیار کے بیج اور ناکافی مشینری کو اہم رکاوٹوں میں شمار کیا۔ ان عوامل کے باعث بعض کسانوں کے گنے، مکئی اور دوسری فصلوں کی طرف منتقل ہونے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔

اجلاس میں تین جہتی حکمت عملی پر غور کیا گیا جس میں مقامی طور پر تیار کردہ بہتر کپاس کے بیج کو مضبوط کرنا، بہتر درآمدی بیج تک رسائی آسان بنانا اور درآمدی اقسام کے لیے تیز تر منظوری کا نظام شامل ہے۔ پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل، نیشنل سیڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی اور پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی پر مشتمل تین رکنی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا جو بیرون ملک سے موزوں کاٹن جرم پلازم کے حصول کے تکنیکی اور مالی تقاضوں کا جائزہ لے گی۔

محکمہ تحفظ نباتات کو زیر التوا Pest Risk Analyses اور Controlled Import Permits پر کام تیز کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔ اجلاس میں درآمدی کپاس کے بیج کی منظوری کے لیے مجوزہ 12 سے 18 ماہ کے فاسٹ ٹریک طریقہ کار پر غور ہوا، جبکہ موجودہ عمل تقریباً سات سال تک لے سکتا ہے۔ حکومت نے واضح کیا کہ تیز رفتار طریقہ کار کو موجودہ قانونی و ضابطہ جاتی فریم ورک کے اندر سائنسی جانچ، بائیو سکیورٹی اور بائیو سیفٹی تقاضوں سے سمجھوتہ کیے بغیر جانچا جائے گا۔

اجلاس میں چین، ترکیہ، شام، کینیا، امریکا، میکسیکو، کرغزستان اور آسٹریلیا کے ساتھ بیج اور تکنیکی تعاون سے متعلق رابطوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سرکاری بیان کے مطابق چین تکنیکی دستاویزات فراہم کر چکا ہے اور مزید معلومات طلب کی گئی ہیں، جبکہ دیگر ممالک کے ساتھ پیش رفت ان کے جوابات سے مشروط ہے۔

مشینی چنائی، سنگل پک اقسام، علاقائی موسمی حالات کے مطابق اقسام کی منظوری اور سرکاری تحقیقی اداروں کی کارکردگی کے قابل پیمائش اہداف بھی اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ یہ اقدامات پالیسی اور انتظامی سمت کی نشاندہی کرتے ہیں؛ کپاس کی پیداوار یا کسانوں کی آمدن میں متوقع بہتری کا حقیقی اثر آئندہ فصلوں، منظور شدہ بیجوں اور عملی نفاذ کے نتائج سے ہی جانچا جا سکے گا۔