پاکستان کی اشیائی برآمدات مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں 7.7 فیصد اضافے کے ساتھ 8.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 7.9 ارب ڈالر تھیں۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اکتوبر 2026 کی ماہانہ ترقیاتی اپ ڈیٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جولائی سے ستمبر کے دوران اشیا اور خدمات کی مجموعی برآمدات 11 فیصد بڑھ کر 11.2 ارب ڈالر رہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق خدمات کی برآمدات میں 22.8 فیصد اضافہ ہوا جبکہ آئی سی ٹی برآمدات 1.2 ارب ڈالر تک پہنچیں۔ خوراک کی برآمدات میں 17.1 فیصد، پیٹرولیم مصنوعات میں 44.5 فیصد، انجینئرنگ اشیا میں 4.9 فیصد اور ٹیکسٹائل برآمدات میں 2.5 فیصد اضافہ رپورٹ کیا گیا۔ حکومت نے ان اعداد کو برآمدات پر مبنی ترقی کی ضرورت کے تناظر میں پیش کیا ہے۔

اسی عرصے میں کارکنوں کی ترسیلات زر 14 فیصد بڑھ کر 10.9 ارب ڈالر ہوئیں، جو ایک سال پہلے 9.5 ارب ڈالر تھیں۔ سعودی عرب سے 2.6 ارب ڈالر، متحدہ عرب امارات سے 2.2 ارب ڈالر، برطانیہ سے 1.6 ارب ڈالر اور امریکا سے تقریباً 931 ملین ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں۔ وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ ترسیلات زر اہم سہارا ہیں، تاہم معیشت کو بیرونی مالی ضرورت کم کرنے کے لیے اپنی برآمدی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا۔

دوسری جانب درآمدات بھی تیزی سے بڑھیں۔ اشیائی درآمدات 14.3 فیصد اضافے سے 17.8 ارب ڈالر اور اشیا و خدمات کی مجموعی درآمدات 14.6 فیصد بڑھ کر 21.3 ارب ڈالر رہیں۔ مشینری کی درآمدات میں 10.7 فیصد اور خام مال میں 28 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جاری کھاتے کا خسارہ 874 ملین ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 755 ملین ڈالر تھا۔ ایف بی آر کی ٹیکس وصولی 7 فیصد اضافے سے 3.086 ٹریلین روپے بتائی گئی۔

حکومت کے مطابق مالی سال 2025-26 میں جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی اور رواں مالی سال کے لیے 4 فیصد ہدف رکھا گیا ہے۔ ستمبر میں ماہانہ مہنگائی اگست کے 11.1 فیصد سے کم ہو کر 10.3 فیصد ہوئی، اگرچہ یہ ایک سال پہلے کی سطح سے بلند رہی۔

یہ اعداد معیشت میں برآمدات اور ترسیلات کے مثبت رجحان کے ساتھ درآمدی دباؤ اور جاری کھاتے کے خسارے کی موجودگی بھی دکھاتے ہیں۔ حکومت نے صوبائی ایکسپورٹ بورڈز اور ضلعی سطح کے برآمدی منصوبوں کی تجویز دی ہے، مگر ان اقدامات کے نتائج ان کے نفاذ اور عالمی طلب، توانائی لاگت اور ملکی پیداواری صلاحیت پر منحصر ہوں گے۔