وفاقی حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 85 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی خوردہ قیمت 400 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں اس مرحلے پر کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور وہ 377 روپے 91 پیسے فی لیٹر پر برقرار رہے گی۔ نئی قیمتوں کا اطلاق حکومت کے اعلان کردہ مقررہ عرصے کے لیے ہوگا۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل پاکستان کی نقل و حمل اور زرعی معیشت میں اہم ایندھن ہے۔ مال بردار ٹرکوں، بسوں، زرعی مشینری اور بعض صنعتی سرگرمیوں میں اس کے وسیع استعمال کے باعث قیمت میں تبدیلی کاروباری لاگت اور سامان کی ترسیل پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ تاہم 85 پیسے کا موجودہ اضافہ نسبتاً محدود ہے، اس لیے اس کے ممکنہ مہنگائی اثرات کا درست اندازہ آئندہ قیمتوں، ٹرانسپورٹ کرایوں اور دیگر لاگتوں کے ساتھ ہی کیا جا سکے گا۔
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی خوردہ قیمتیں بین الاقوامی خام تیل اور تیار مصنوعات کی قیمتوں، شرح مبادلہ، پٹرولیم لیوی، کسٹمز و دیگر حکومتی اجزا اور درآمدی لاگت سمیت متعدد عوامل سے بنتی ہیں۔ ہر قیمت نظرثانی میں ان عوامل کا مجموعی اثر مختلف ہو سکتا ہے۔ حکومت وقتاً فوقتاً پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں کا الگ الگ تعین کرتی ہے، اسی لیے ایک مصنوعات کی قیمت میں تبدیلی اور دوسری کو برقرار رکھنا ممکن ہوتا ہے۔
پٹرول کی قیمت 377 روپے 91 پیسے فی لیٹر برقرار رکھنے کا فیصلہ موٹر سائیکل، کار اور دیگر پٹرول استعمال کرنے والے صارفین کے لیے فوری اضافی بوجھ سے بچاؤ کا باعث ہے، لیکن مجموعی توانائی لاگت میں ڈیزل کی بلند سطح اہم رہے گی۔ خاص طور پر بین الصوبائی مال برداری اور زرعی پیداوار کی ترسیل میں ڈیزل کی قیمت کاروباری فیصلوں کا اہم جزو ہے۔
موجودہ نوٹیفکیشن صرف نئی سرکاری خوردہ قیمتوں کی تصدیق کرتا ہے۔ اس سے مستقبل میں قیمتوں کے رجحان کی ضمانت نہیں ملتی، کیونکہ آئندہ نظرثانی عالمی منڈی، روپے کی قدر اور حکومتی ٹیکس و لیوی پالیسی سے متاثر ہو سکتی ہے۔ صارفین اور کاروباری اداروں کے لیے متعلقہ سرکاری نوٹیفکیشن ہی قابل اطلاق قیمت کا بنیادی حوالہ ہے۔

