قومی اسمبلی کو تحریری جواب میں بتایا گیا ہے کہ 2026 کے دوران عمان اور قطر میں ملازمت کے لیے پاکستانی کارکنوں کی رجسٹریشن میں گزشتہ سال کے رپورٹ شدہ اعداد کے مقابلے میں نمایاں کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔ وزیر برائے سمندر پار پاکستانی چوہدری سالک حسین نے رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی کے سوال کے جواب میں بتایا کہ عمان کے لیے رجسٹریشن 2025 میں 9,373 تھی جبکہ 2026 میں 607 رپورٹ ہوئی۔ قطر کے لیے یہ تعداد 68,361 سے کم ہو کر 35,858 بتائی گئی۔
متحدہ عرب امارات کے لیے 2026 میں 51,238 پاکستانی کارکنوں کی رجسٹریشن رپورٹ ہوئی، جبکہ 2025 میں یہ تعداد 52,659 تھی۔ تاہم تحریری جواب میں 2026 کے اعداد و شمار کی کٹ آف تاریخ واضح نہیں کی گئی۔ اسی وجہ سے ان اعداد کا مکمل سال 2025 کے اعداد سے براہ راست تقابل احتیاط کے ساتھ کیا جانا چاہیے، کیونکہ ممکن ہے 2026 کی تعداد پورے کیلنڈر سال کی نمائندگی نہ کرتی ہو۔
وزیر نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ مالی سال 2025-26 میں کارکنوں کی ترسیلات زر 8.6 فیصد اضافے سے ریکارڈ 41.58 ارب ڈالر تک پہنچیں۔ حکومت کے مطابق علاقائی غیر یقینی کے باوجود اب تک پاکستانی مشنز، کمیونٹی ویلفیئر اتاشیوں یا ریکروٹمنٹ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستانی کارکنوں کی بڑے پیمانے پر بے دخلی، ملازمتوں کے خاتمے یا ان سے متعلق بڑے منصوبوں کی معطلی کی اطلاع نہیں ملی۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے اعداد کے مطابق 2024 سے 2026 کے دوران سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، بحرین اور کویت کے لیے مجموعی طور پر 17 لاکھ سے زیادہ پاکستانی روزگار کے لیے رجسٹر ہوئے، جو اسی مدت میں بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والوں کی بڑی اکثریت بنتی ہے۔ سعودی عرب سب سے بڑی منزل رہا۔ اس جغرافیائی ارتکاز کے باعث خلیجی ممالک کی لیبر مارکیٹ اور معاشی حالات پاکستانی روزگار اور ترسیلات کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔
حکومت نے واپس آنے والے پاکستانیوں کی معاونت کے لیے اسلام آباد، پشاور اور لاہور کے ہوائی اڈوں پر اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے استقبالیہ اور دوبارہ انضمام ڈیسک کا بھی ذکر کیا۔ اہل واپس آنے والے افراد کے لیے کاروبار شروع کرنے کی خاطر نرم قرضوں کی تجویز اور فنی تربیت و روزگار معاونت کے پروگرام بھی زیر عمل یا زیر غور ہیں۔ عمان اور قطر کے اعداد میں کمی ایک قابل توجہ رجحان ہے، لیکن 2026 کی کٹ آف تاریخ نہ ہونے کے باعث اس کی حتمی سالانہ شدت کے بارے میں نتیجہ اخذ کرنا ابھی مناسب نہیں ہوگا۔
