پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے اسلامی مالیاتی اصولوں کے مطابق سرمایہ کاری کے لیے ایک مخصوص شریعہ کمپلائنٹ ٹریڈنگ کاؤنٹر شروع کر دیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق یہ پلیٹ فارم سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے شریعہ ٹریڈنگ کاؤنٹر ریگولیشنز کی منظوری کے بعد 29 اکتوبر کو متعارف کرایا گیا۔ اس کا مقصد ریٹیل اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو ایسا تجارتی ماحول فراہم کرنا ہے جہاں دستیاب مصنوعات اور ٹریڈنگ طریقہ کار کو اسلامی مالیاتی ضوابط کے مطابق محدود کیا گیا ہو۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے مطابق کاؤنٹر پر شریعہ کمپلائنٹ ایکویٹیز کے ساتھ حکومتی اجارہ صکوک اور کارپوریٹ صکوک تک رسائی دی گئی ہے۔ اب تک 39 بروکرز کو اسلامی ونڈوز کے ذریعے شریعہ کمپلائنٹ ٹریڈنگ فراہم کرنے کے لیے شامل کیا گیا ہے، جبکہ دو بروکریج ہاؤسز مکمل شریعہ کمپلائنٹ بروکر کے طور پر لائسنس یافتہ ہیں۔ یہ تعداد پلیٹ فارم کے آغاز کے وقت کی صورتحال کی نمائندگی کرتی ہے اور مستقبل میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
نئے نظام میں غیر شریعہ کمپلائنٹ سکیورٹیز کی تجارت، شارٹ سیلنگ اور ڈیریویٹوز کی اجازت نہیں ہوگی۔ سود پر مبنی لیوریج مصنوعات، جن میں مارجن ٹریڈنگ سسٹم شامل ہے، بھی اس کاؤنٹر پر بلاک ہوں گی۔ اس کے متبادل کے طور پر مرابحہ شیئر فنانسنگ کی سہولت دستیاب ہوگی۔ سرمایہ کاروں کو اپنے پورٹ فولیو میں موجود غیر شریعہ کمپلائنٹ ہولڈنگز فروخت کرنے کی سہولت بھی دی گئی ہے تاکہ وہ پورٹ فولیو کو متعلقہ معیار کے مطابق ڈھال سکیں۔
پی ایس ایکس نے اپنے ڈیٹا پورٹل پر ایک شریعہ پورٹل بھی متعارف کرایا ہے جہاں اہل حصص اور صکوک کی فہرست فراہم کی جاتی ہے۔ سرمایہ کار شریعہ کمپلائنٹ کسٹمر ریلیشن شپ اور رسک ڈسکلوژر دستاویز استعمال کرتے ہوئے اکاؤنٹس، بشمول سہولت اکاؤنٹس، کھول سکتے ہیں۔ پی ایس ایکس کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو فرخ ایچ سبزواری کے مطابق نظام میں کمپلائنس کنٹرولز شامل کیے گئے ہیں تاکہ اسلامی سرمایہ کاری تک رسائی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بہتر ہو۔
ایس ای سی پی حکام نے اس اقدام کو پاکستان کی اسلامی کیپٹل مارکیٹ کے دائرے کو وسیع کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ اگلے مراحل میں ڈیجیٹل ریٹیل صکوک، شریعہ کمپلائنٹ لیکویڈیٹی اور رسک مینجمنٹ ٹولز اور اسلامی مالیاتی خدمات کے قانونی فریم ورک کو مزید مضبوط کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ نئے کاؤنٹر کا حقیقی اثر وقت کے ساتھ سرمایہ کاروں کی شرکت، ٹریڈنگ حجم اور دستیاب اسلامی مصنوعات کی وسعت سے واضح ہوگا۔
