وفاقی حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 85 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 400.67 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں اس روز کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور وہ 377.91 روپے فی لیٹر برقرار رہے گی۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 30 اکتوبر سے کیا گیا ہے۔
یہ اضافہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی تیل منڈی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں بار بار ردوبدل ہو رہا ہے۔ حکومت نے رواں سال عالمی قیمتوں میں تیز اتار چڑھاؤ کے بعد ایندھن کی قیمتوں کے تعین کا دورانیہ بھی مختصر کیا اور جولائی میں اعلان کیا تھا کہ بین الاقوامی منڈی کے رجحانات کے مطابق قیمتوں کا فیصلہ روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
حکومت پٹرول پر مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر کے قریب ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کی وصولی جاری رکھے ہوئے ہے۔ پٹرول زیادہ تر نجی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور رکشوں میں استعمال ہوتا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کا استعمال بھاری ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری، بجلی پیدا کرنے والے بڑے جنریٹرز اور صنعتی سرگرمیوں میں زیادہ ہے۔ اسی لیے ڈیزل کی قیمت میں تبدیلی نقل و حمل اور اشیا کی ترسیل کے اخراجات پر اثر ڈال سکتی ہے۔
حالیہ مہینوں میں دونوں ایندھنوں کی قیمتیں جنگ اور عالمی رسد کے خدشات کے باعث نمایاں بلند سطح تک گئی تھیں۔ ڈان کے مطابق اپریل میں ہائی اسپیڈ ڈیزل 520.35 روپے فی لیٹر کی بلند سطح تک پہنچا تھا، جبکہ پٹرول 458.41 روپے فی لیٹر تک گیا تھا۔ اس کے بعد قیمتوں میں کمی بھی ہوئی، تاہم مسلسل اتار چڑھاؤ برقرار ہے۔
ایندھن کی بلند قیمتوں کے پس منظر میں حکومت نے سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کوٹے میں عارضی کمی اور مارکیٹوں کے اوقات محدود کرنے سمیت کفایت شعاری کے اقدامات بھی متعارف کرائے ہیں۔ موٹر سائیکل، رکشا اور 800 سی سی تک گاڑیوں کے صارفین کے لیے ہدفی ریلیف اسکیم بھی جاری ہے۔ موجودہ نوٹیفکیشن صرف تازہ قیمتوں کی تصدیق کرتا ہے؛ آئندہ تبدیلیاں عالمی خام تیل، شرح مبادلہ، ٹیکس اور سرکاری قیمت سازی کے فیصلوں سے مشروط رہیں گی۔
