پاکستان نے عالمی بینک کے ساتھ 600 ملین ڈالر مالیت کے 'Bold Reforms for Investment-Driven Growth and Employment' یا BRIDGE پروگرام پر پیش رفت شروع کی ہے، جس کا مقصد نجی سرمایہ کاری، کاروباری ماحول، مالی رسائی اور روزگار سے متعلق اصلاحات کو سہارا دینا ہے۔ عالمی بینک کی جاری کردہ دستاویزات کے مطابق منصوبے کی متوقع منظوری 29 جنوری 2027 رکھی گئی ہے اور قرض وزارت خزانہ کے ذریعے لیا جانا ہے۔

پروگرام کے تحت حکومت نے متعدد قانونی اور ادارہ جاتی اقدامات پر کام کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ان میں جدید انویسٹمنٹ ایکٹ، فیکٹرنگ قانون اور متحدہ کارپوریٹ دیوالیہ پن کے قانون کی تیاری، پاکستان بزنس پورٹل کو مکمل طور پر فعال کرنا، اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک کی خدمات کو بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق وسعت دینا شامل ہے۔ ان اقدامات کا مقصد کاروباری اجازت ناموں، سرمایہ کاروں کے حقوق اور کاروباری قرض تک رسائی میں موجود رکاوٹیں کم کرنا بتایا گیا ہے۔

عالمی بینک کی دستاویز میں گندم اور چینی کو امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ آرڈر 2022 سے نکال کر بین الاقوامی تجارت کو زیادہ کھلا بنانے، یوریا کی درآمد میں نجی شعبے کا حصہ بڑھانے اور بیجوں کی منظوری کے لیے قومی سطح کا یکساں نظام بنانے جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔ یہ تجاویز پالیسی اصلاحات ہیں؛ ان میں سے ہر اقدام کا عملی نفاذ متعلقہ قانون، کابینہ یا ریگولیٹری منظوری سے مشروط ہو سکتا ہے۔

پروگرام کا ایک حصہ بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والے پاکستانیوں کے ڈیٹا اور ڈیجیٹل مائیگریشن نظام کو بہتر بنانے سے متعلق ہے۔ عالمی بینک کے مطابق تقریباً آٹھ لاکھ سالانہ بیرون ملک جانے والے کارکن بہتر ڈیجیٹل پراسیس اور روانگی سے قبل رہنمائی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ نیشنل ووکیشنل کوالیفکیشن فریم ورک اور عالمی مہارت شراکت داریوں کو بھی مضبوط کرنے کی تجویز ہے۔

عالمی بینک کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں نجی سرمایہ کاری کی کم سطح طویل عرصے سے پیچیدہ ضابطوں، محدود قرض منڈی، بلند تجارتی لاگت اور شعبہ جاتی رکاوٹوں سے متاثر رہی ہے۔ پروگرام پاکستان میں نجی سرمایہ کاری کو 2035 تک جی ڈی پی کے 15 فیصد تک لے جانے کے وسیع ہدف کی حمایت کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ تاہم 600 ملین ڈالر کی رقم ابھی متوقع پروگرام اور منظوری کے مرحلے سے متعلق ہے؛ اسے پہلے سے جاری شدہ یا مکمل طور پر منظور شدہ قرض قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اس پروگرام کی حتمی شرائط، منظوری اور رقم کے اجرا کا انحصار عالمی بینک کے بورڈ عمل، حکومت کی اصلاحاتی پیش رفت اور متعلقہ قانونی اقدامات پر ہوگا۔ اس لیے موجودہ خبر کو مجوزہ قرض اور اس سے منسلک اصلاحاتی فریم ورک کے طور پر سمجھنا ضروری ہے، نہ کہ تمام شرائط مکمل ہونے یا پوری رقم موصول ہونے کی تصدیق کے طور پر۔