پاکستان اور افغانستان کے درمیان اہم سرحدی گزرگاہوں پر تجارتی آمدورفت میں تعطل کے بعد کابل نے اپنی بیرونی تجارت کے لیے ایران اور وسطی ایشیائی ممالک سے گزرنے والے متبادل راستوں پر انحصار بڑھانے کا عندیہ دیا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی کشیدگی اور گزرگاہوں کی بندش نے مال بردار گاڑیوں، تاجروں اور جلد خراب ہونے والی اشیا کی ترسیل کو متاثر کیا ہے، جس سے علاقائی تجارت کے موجودہ ڈھانچے کی کمزوریاں ایک بار پھر نمایاں ہوئی ہیں۔
پاکستان طویل عرصے سے افغانستان کے لیے سمندر تک رسائی اور ٹرانزٹ تجارت کا اہم راستہ رہا ہے۔ کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں سے افغان درآمدات زمینی راستوں کے ذریعے طورخم اور چمن سمیت مختلف سرحدی پوائنٹس تک پہنچتی ہیں۔ جب ان گزرگاہوں پر آمدورفت رکتی ہے تو کنٹینرز، ٹرک اور تجارتی سامان دونوں جانب جمع ہو جاتا ہے اور تاجروں کو ذخیرہ، ٹرانسپورٹ اور تاخیر کی اضافی لاگت برداشت کرنا پڑتی ہے۔
افغان حکام نے حالیہ برسوں میں ایران کی چابہار اور بندر عباس بندرگاہوں کے ساتھ ازبکستان، ترکمانستان اور دیگر وسطی ایشیائی رابطوں کو متبادل تجارتی راستوں کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ موجودہ تعطل نے ان کوششوں کو نئی اہمیت دی ہے۔ تاہم کسی متبادل راستے کی دستیابی کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کے ذریعے ہونے والی تجارت فوری طور پر مکمل طور پر تبدیل ہو سکتی ہے؛ فاصلے، لاگت، سرحدی ضوابط، ریل اور سڑک کے رابطے اور بندرگاہی سہولتیں ہر راہداری کی عملی افادیت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
پاکستانی تاجروں اور سرحدی علاقوں کی معیشت کے لیے بھی افغانستان کے ساتھ تجارت اہم ہے۔ پھل، سبزیاں، خوراک، تعمیراتی سامان اور مختلف صارف اشیا دونوں سمتوں میں منتقل ہوتی ہیں۔ طویل بندش سے جلد خراب ہونے والی اشیا کو خاص نقصان پہنچ سکتا ہے، جبکہ مال بردار گاڑیوں کے ڈرائیور اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد بھی آمدنی سے محروم ہوتے ہیں۔ تجارتی تنظیمیں ماضی میں بھی دونوں حکومتوں سے مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ سیاسی یا سکیورٹی اختلافات کے دوران تجارت اور ٹرانزٹ کو ممکن حد تک جاری رکھنے کا طریقہ وضع کیا جائے۔
سرحدی بندش کے اس مرحلے میں سکیورٹی اور سفارتی معاملات بھی تجارت سے جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان نے سرحد پار عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں سے متعلق اپنے تحفظات بارہا اٹھائے ہیں، جبکہ افغان طالبان حکومت ان الزامات کے مختلف پہلوؤں سے اختلاف کرتی رہی ہے۔ ان متنازع دعوؤں کو فریقین کے مؤقف کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔ تجارتی راہداریوں کی بحالی یا مستقل متبادل نظام کا انحصار سیاسی مذاکرات اور عملی سرحدی انتظامات پر ہوگا۔
موجودہ پیش رفت افغانستان کی تجارت میں تنوع کی خواہش کو ظاہر کرتی ہے، مگر اس کے طویل مدتی معاشی اثرات ابھی واضح نہیں۔ اگر متبادل راستوں کا استعمال مستقل طور پر بڑھتا ہے تو پاکستان کی ٹرانزٹ آمدن اور سرحدی کاروبار متاثر ہو سکتے ہیں، لیکن اس بارے میں قابل اعتماد نتیجہ مستقبل کے تجارتی حجم اور کسٹمز اعداد و شمار سے ہی اخذ کیا جا سکے گا۔

