حکومت اور مالیاتی حکام نے بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کیلئے رسمی اور ڈیجیٹل ذرائع کے استعمال کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ متعلقہ پالیسی اقدامات کا مقصد رقوم کی منتقلی کو تیز، آسان اور دستاویزی بنانا ہے تاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی غیر رسمی راستوں کے بجائے بینکوں اور منظور شدہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے رقم بھیجنے کو ترجیح دیں۔
ترسیلات زر پاکستان کے بیرونی کھاتے کا ایک اہم ذریعہ ہیں اور لاکھوں گھرانوں کی آمدن میں براہ راست کردار ادا کرتی ہیں۔ رسمی چینلز سے آنے والی رقوم ملکی زرمبادلہ کی دستیابی بہتر بنانے میں بھی مدد دیتی ہیں۔ اسی وجہ سے حکومت، اسٹیٹ بینک اور پاکستان ریمیٹنس انیشی ایٹو مختلف ادوار میں بینکوں، ایکسچینج کمپنیوں اور بین الاقوامی منی ٹرانسفر اداروں کے ساتھ مل کر ترسیلات کے نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
ڈیجیٹل ذرائع کی توسیع کا ایک مقصد یہ ہے کہ بیرون ملک مقیم افراد موبائل اور آن لائن سہولیات کے ذریعے کم وقت میں رقم بھیج سکیں اور پاکستان میں وصول کنندگان کو بینک اکاؤنٹس یا دیگر منظور شدہ ذرائع سے ادائیگی مل سکے۔ ایسی سہولت خاص طور پر ان صارفین کیلئے اہم ہے جنہیں روایتی برانچ نیٹ ورک تک محدود رسائی ہوتی ہے یا جو فوری منتقلی چاہتے ہیں۔
حکام کیلئے ایک اہم چیلنج یہ بھی ہے کہ رسمی چینلز کی لاگت اور شرح مبادلہ غیر رسمی مارکیٹ کے مقابلے میں مسابقتی رہے۔ اگر صارفین کو بہتر شرح، کم فیس، تیز تصفیہ اور قابل اعتماد ڈیجیٹل سہولت ملے تو قانونی ذرائع کا استعمال بڑھ سکتا ہے۔ دوسری جانب مالیاتی نگرانی، صارفین کی شناخت اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے تقاضوں پر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔
پاکستان میں ترسیلات زر کی ماہانہ سطح عالمی روزگار کی صورت حال، خلیجی ممالک اور دیگر بڑی منڈیوں میں پاکستانی کارکنوں کی آمدن، شرح مبادلہ اور رسمی و غیر رسمی چینلز کے درمیان فرق سے متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے ڈیجیٹل سہولت اکیلے ترسیلات کی مجموعی سطح متعین نہیں کرتی، لیکن رقوم کو دستاویزی نظام میں منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
حکومت کی توجہ اب ایسے نظام پر ہے جس میں بیرون ملک پاکستانیوں کیلئے رقم بھیجنے کا عمل زیادہ آسان ہو اور پاکستان کے مالیاتی نظام کو ترسیلات کا بڑا حصہ رسمی طور پر موصول ہو۔ ان اقدامات کے حقیقی اثر کا اندازہ آئندہ مہینوں کے ترسیلاتی اعدادوشمار اور ڈیجیٹل چینلز کے استعمال میں تبدیلی سے ہوگا۔

