وفاقی حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 85 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد اس کی خوردہ قیمت 400 روپے فی لیٹر کی سطح سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ پیٹرول کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ وزارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن نے 29 اکتوبر 2026 کو نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔

ڈان کی رپورٹ اور پیٹرولیم ڈویژن کی سرکاری اطلاع کے مطابق پیٹرول 377.91 روپے فی لیٹر پر برقرار رہے گا۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں تازہ اضافے کے بعد یہ 400 روپے فی لیٹر سے اوپر چلی گئی ہے۔ قیمتوں میں یہ تبدیلی حکومت کے اس نظام کے تحت کی گئی ہے جس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا وقفے وقفے سے جائزہ لیا جاتا ہے اور عالمی منڈی، شرح مبادلہ، ٹیکسوں اور دیگر متعلقہ عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔

ہائی اسپیڈ ڈیزل پاکستان کی ٹرانسپورٹ، زراعت اور مال برداری میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے اس کی قیمت میں معمولی تبدیلی بھی سامان کی نقل و حمل، زرعی مشینری اور مختلف کاروباری لاگتوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔ تاہم کسی مخصوص مہنگائی اثر کی مقدار کا اندازہ الگ معاشی ڈیٹا کے بغیر نہیں لگایا جا سکتا، اس لیے تازہ نوٹیفکیشن کو براہ راست کسی متعین شرحِ مہنگائی سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔

یہ تازہ فیصلہ حالیہ دنوں میں پیٹرولیم قیمتوں میں ہونے والی متعدد تبدیلیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ حکومت نے اس سے قبل بھی عالمی قیمتوں اور مقامی مالی عوامل کی بنیاد پر پیٹرول اور ڈیزل کے نرخوں میں ردوبدل کیا تھا۔ 29 اکتوبر کے نوٹیفکیشن میں نمایاں نکتہ یہ ہے کہ پیٹرول کی موجودہ قیمت برقرار رکھی گئی، جبکہ ڈیزل میں محدود اضافہ کیا گیا اور اس کی قیمت نفسیاتی طور پر اہم 400 روپے فی لیٹر کی حد سے اوپر پہنچ گئی۔

صارفین اور کاروباری شعبوں کے لیے قابل عمل قیمت وہی ہے جو سرکاری نوٹیفکیشن میں مقرر کی گئی ہے۔ آئندہ ردوبدل حکومت کے اگلے جائزے اور اس وقت کے عالمی و مقامی عوامل پر منحصر ہوگا۔ موجودہ اعلان صرف تازہ قیمتوں کی تصدیق کرتا ہے اور مستقبل کے نرخوں کے بارے میں کوئی ضمانت یا پیش گوئی نہیں دیتا۔