مسلسل اپ ڈیٹس

حکومت اور پی ٹی آئی: غیر رسمی رابطے اور مذاکراتی امکانات

اسلام آباد — وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنااللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کے بعض پاکستان تحریکِ انصاف رہنماؤں کے ساتھ آف‑دی‑ریکارڈ رابطے فون پر اور پارلیمنٹ کے اجلاسوں کے دوران ہوتے ہیں اور حکومت ان افراد کے نام ظاہر نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ نام ظاہر کرنا متعلقہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے لیے جماعتی مشکلات پیدا کر سکتا ہے، اور ان غیر رسمی رابطوں کا کسی مرحلے پر باقاعدہ مذاکرات کی شکل اختیار کرنا سیاسی ماحول اور واضح طریقۂ کار پر منحصر ہوگا۔ رانا ثنااللہ نے قائدِ ایوان اور قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی کی ملاقات کو تعطل ختم کرنے کے لیے ممکنہ ابتدائی قدم قرار دیا اور پی ٹی آئی سے پارلیمانی کمیٹیوں کے بائیکاٹ پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا۔ یہ بیان حکومتی عہدیدار کا دعویٰ ہے؛ پی ٹی آئی کی طرف سے ان مخصوص غیر رسمی رابطوں کی آزادانہ تصدیق یا ان رابطوں کی ذمہ داری قبول کرنے والے افراد کے نام جاری نہیں ہوئے۔ جب تک باقاعدہ مذاکراتی ڈھانچہ، ایجنڈا یا نمائندوں کا اعلان نہیں ہوتا، ان رابطوں کو رسمی مذاکرات کی بحالی نہیں سمجھا جا سکتا۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے