اسلام آباد میں وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ حکومت کے بعض پاکستان تحریک انصاف رہنماؤں کے ساتھ ’’آف دی ریکارڈ‘‘ رابطے موجود ہیں، تاہم انہوں نے ان رہنماؤں کے نام بتانے سے گریز کیا۔ جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ رابطے کبھی فون پر اور کبھی قومی اسمبلی یا سینیٹ کے اجلاسوں کے دوران ہوتے ہیں۔

رانا ثنااللہ کے مطابق نام ظاہر کرنے سے متعلقہ PTI رہنماؤں کے لیے اپنی جماعت کے اندر مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ غیر رسمی رابطے کسی مرحلے پر باقاعدہ مذاکرات کی شکل اختیار کر سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے سیاسی ماحول اور دونوں جانب سے واضح طریقہ کار درکار ہوگا۔ یہ بیان حکومتی عہدیدار کا دعویٰ ہے؛ PTI کی جانب سے ان مخصوص غیر رسمی رابطوں کی آزادانہ تصدیق یا رابطہ رکھنے والے افراد کے نام سامنے نہیں آئے۔

وزیراعظم کے مشیر نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تعطل ختم کرنے کے لیے قائد ایوان وزیراعظم شہباز شریف اور قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کی ملاقات کو ایک ممکنہ ابتدائی قدم قرار دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ پارلیمانی سیاست میں براہ راست رابطے اور کمیٹیوں میں شرکت اعتماد سازی میں مدد دے سکتی ہے۔ انہوں نے PTI سے پارلیمانی کمیٹیوں کے بائیکاٹ پر بھی نظرثانی کا مطالبہ کیا۔

حکومت اور PTI کے درمیان اس سے پہلے بھی مذاکرات کے ادوار ہوئے ہیں، تاہم مختلف سیاسی اور قانونی تنازعات کے باعث یہ عمل مستقل شکل اختیار نہیں کر سکا۔ رانا ثنااللہ نے کہا کہ حکومت کو باضابطہ یا غیر رسمی طور پر ابھی ایسا واضح اشارہ نہیں ملا کہ PTI نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔

ان کے بیان کی سیاسی اہمیت اس لیے ہے کہ حکومت اور بڑی اپوزیشن جماعت کے درمیان عوامی سطح پر سخت بیانات کے باوجود پس پردہ رابطوں کا امکان برقرار رہنے کی بات کی گئی ہے۔ تاہم جب تک دونوں فریق کسی باقاعدہ مذاکراتی ڈھانچے، ایجنڈے یا نمائندوں کا اعلان نہیں کرتے، ان رابطوں کو رسمی مذاکرات کی بحالی نہیں سمجھا جا سکتا۔