اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات مؤخر کرنے سے متعلق صوبائی حکومت کی درخواست پر سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ کمیشن کے مطابق فیصلہ 28 اکتوبر کو سنائے جانے کی توقع ہے۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں بینچ نے صوبائی حکومت کے مؤقف کا جائزہ لیا۔ خیبرپختونخوا کے مشیر قانون امیر جاوید نے کمیشن کو بتایا کہ بعض اضلاع میں 11 اکتوبر سے ایمرجنسی نافذ ہے اور مخصوص علاقوں میں آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج بھی تعینات کی گئی ہے۔ صوبائی حکومت نے امن و امان، پولنگ عملے اور ووٹرز کی سلامتی کو انتخابات کے بروقت انعقاد کے لیے اہم رکاوٹیں قرار دیا۔
سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے سوال اٹھایا کہ ایمرجنسی کا نفاذ بذات خود انتخابات کے انعقاد میں قانونی رکاوٹ کیسے بنتا ہے۔ الیکشن کمیشن کے حکام نے بھی سکیورٹی صورتحال اور انتخابی انتظامات کے عملی پہلوؤں پر اپنا مؤقف پیش کیا۔ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ مقامی حکومتوں کے انتخابات آئینی اور قانونی ذمہ داری سے جڑے ہیں، جبکہ صوبائی حکومت سلامتی کے غیر معمولی حالات کا حوالہ دے رہی ہے۔
کمیشن کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا متعلقہ اضلاع میں موجود سکیورٹی خطرات اتنے سنگین ہیں کہ انتخابی شیڈول میں تبدیلی ضروری ہو، اور اگر ایسا ہے تو التوا کی مدت اور آئندہ لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے۔ محفوظ کیا گیا فیصلہ انہی نکات پر کمیشن کی قانونی اور انتظامی تشخیص واضح کرے گا۔
اسی دوران پنجاب کے بلدیاتی انتخابات سے متعلق طے شدہ سماعت بھی ایک روز کے لیے ملتوی کی گئی۔ ملک میں مقامی حکومتوں کے بروقت انتخابات کا معاملہ طویل عرصے سے سیاسی اور قانونی بحث کا موضوع رہا ہے۔ خیبرپختونخوا کے کیس میں کمیشن کا فیصلہ مستقبل کے انتخابی شیڈول، امیدواروں کی تیاری، انتظامیہ کی ذمہ داریوں اور متاثرہ اضلاع کے ووٹرز کے حق نمائندگی پر براہ راست اثر ڈال سکتا ہے۔ جب تک تحریری فیصلہ جاری نہیں ہوتا، صوبائی حکومت کی درخواست منظور یا مسترد ہونے کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

