لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے ایک سول تنازع میں قرار دیا ہے کہ قرآن مجید پر خصوصی حلف کی ایسی پیشکش، جس کے ساتھ یہ شرط منسلک ہو کہ حلف غلط ثابت ہونے کی صورت میں حلف اٹھانے والے کی بیوی کو طلاق ہو جائے گی، قانونی طور پر درست پیشکش نہیں۔ جسٹس انوار حسین نے محمد اعظم خان کی سول نظرثانی درخواست منظور کرتے ہوئے اس نوعیت کے طریقہ کار کی قانونی حیثیت پر فیصلہ دیا۔

مقدمے کے ریکارڈ کے مطابق فریقین کے درمیان سول اپیل زیر سماعت تھی جب درخواست گزار نے اگست 2023 میں مخالف فریق کو قرآن پر حلف کے ذریعے تنازع طے کرنے کی پیشکش کی۔ اس پیشکش کے ساتھ ازدواجی تعلق سے متعلق طلاق کی شرط بھی جوڑی گئی تھی۔ بعد میں مخالف فریق نے حلف اٹھانے پر آمادگی ظاہر کی، جبکہ پیشکش کرنے والے فریق نے اس طریقے سے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔

عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ آیا ایسی مشروط پیشکش کو قانون شہادت کے تحت خصوصی حلف کی جائز اور قابل نفاذ پیشکش سمجھا جا سکتا ہے۔ ہائیکورٹ نے معاملے کا جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا کہ عدالتی تنازع کے تصفیے میں خصوصی حلف کا طریقہ قانونی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے اور اس کے ساتھ ایسی اضافی شرط نہیں لگائی جا سکتی جو تیسرے شخص، بالخصوص ازدواجی حیثیت، پر اثر ڈالے۔

فیصلے کی اہمیت اس لیے ہے کہ خصوصی حلف بعض سول تنازعات میں فریقین کی رضامندی سے ثبوت یا تصفیے کے ایک مخصوص طریقے کے طور پر سامنے آ سکتا ہے، لیکن عدالت نے واضح حد مقرر کی ہے کہ اس عمل کو ذاتی یا خاندانی نتائج سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔ عدالتی فیصلے کو کسی عمومی مذہبی فتویٰ کے بجائے زیر سماعت سول مقدمے اور متعلقہ قانونی اصولوں کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔

ہائیکورٹ نے ماتحت عدالتی کارروائی کے متعلقہ حصے کو قانونی معیار کے مطابق جانچتے ہوئے درخواست گزار کو ریلیف دیا۔ فیصلے سے یہ اصول بھی سامنے آتا ہے کہ عدالت میں پیش کی جانے والی رضامندی یا حلف کی شرائط واضح، قانونی اور تنازع سے براہ راست متعلق ہونی چاہئیں۔ کسی فریق کے ازدواجی رشتے کو ثبوت کے طریقہ کار کے ساتھ جوڑنا عدالتی عمل میں قابل قبول متبادل نہیں۔ تفصیلی عدالتی حکم آئندہ ایسے مقدمات میں ماتحت عدالتوں اور وکلا کے لیے رہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔