کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے پاکستان اسٹیل ملز کے سابق ملازمین کے ریٹائرمنٹ واجبات کی ادائیگی میں تاخیر کے معاملے پر متعلقہ حکام سے پیش رفت رپورٹ طلب کر لی ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ واجبات کی ادائیگی کے لیے تقریباً 19 ارب روپے جاری کرنے کی تجویز وزارت صنعت و پیداوار کو بھیجی گئی تھی، مگر 17 ماہ گزرنے کے باوجود اس پر حتمی جواب سامنے نہیں آیا۔
مقدمہ سابق ملازمین کی ریٹائرمنٹ سے متعلق مالی حقوق اور طویل عرصے سے زیر التوا ادائیگیوں سے متعلق ہے۔ عدالت کے سامنے یہ مؤقف پیش کیا گیا کہ متعلقہ اداروں کے درمیان خط و کتابت اور منظوری کے عمل میں تاخیر کے باعث ریٹائرڈ ملازمین اپنے واجبات حاصل نہیں کر سکے۔ عدالت نے اس صورتحال پر متعلقہ حکام سے واضح رپورٹ مانگی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ فنڈز کے اجرا کی تجویز کس مرحلے پر ہے اور تاخیر کی وجوہات کیا ہیں۔
پاکستان اسٹیل ملز کئی برس سے مالی اور انتظامی مشکلات کا شکار ہے اور اس کے ملازمین کی تنخواہوں، پنشن اور ریٹائرمنٹ فوائد سے متعلق معاملات مختلف فورمز پر زیر بحث رہے ہیں۔ موجودہ کارروائی میں 19 ارب روپے کا حوالہ ایک مجوزہ مالی ضرورت کے طور پر دیا گیا ہے؛ عدالت نے ابھی اس رقم کی فوری ادائیگی کا حتمی فیصلہ نہیں سنایا۔
عدالتی نگرانی کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ متعلقہ وزارت اور ادارے زیر التوا معاملے پر اپنی ذمہ داری اور عملی پیش رفت واضح کریں۔ سابق ملازمین کے لیے ریٹائرمنٹ واجبات میں گریجویٹی، پراویڈنٹ فنڈ یا دیگر قانونی فوائد جیسے مختلف اجزا شامل ہو سکتے ہیں، تاہم ہر درخواست گزار کا انفرادی حق متعلقہ ریکارڈ اور قواعد کے مطابق طے ہوگا۔
یہ معاملہ سرکاری اداروں کی مالی ذمہ داریوں اور ریٹائرڈ کارکنوں کے قانونی حقوق دونوں سے جڑا ہوا ہے۔ طویل تاخیر سے متاثرہ افراد کے لیے مالی مشکلات بڑھ سکتی ہیں، جبکہ حکومت کے لیے بڑی یکمشت ادائیگی کا انتظام بھی بجٹ اور ادارہ جاتی فیصلوں سے وابستہ ہے۔ آئندہ سماعت میں وزارت صنعت و پیداوار اور دیگر متعلقہ حکام کی رپورٹ سے یہ واضح ہونے کی توقع ہے کہ 19 ارب روپے کے مجوزہ اجرا پر کیا فیصلہ کیا گیا، فنڈز کہاں سے فراہم کیے جائیں گے اور ادائیگی کے لیے ممکنہ طریقہ کار کیا ہوگا۔ اس وقت تک معاملہ عدالتی نگرانی میں زیر التوا ہے۔
