کراچی: سندھ حکومت نے گلگت بلتستان میں امراض قلب کے ایک ہسپتال کی اپ گریڈیشن کے لیے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیز کے ذریعے تکنیکی اور ادارہ جاتی معاونت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے این آئی سی وی ڈی کو اس مقصد کے لیے گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون کی ہدایت دی اور باقاعدہ مفاہمتی یادداشت کی تجویز بھی پیش کی۔
یہ پیش رفت وزیراعلیٰ سندھ اور گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ امجد حسین آزاد کے درمیان وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی۔ گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ نے اپنے صوبے میں کارڈیک ہسپتال کی سہولتیں بہتر بنانے کے لیے سندھ حکومت سے تعاون کی درخواست کی تھی، جس پر مراد علی شاہ نے این آئی سی وی ڈی کی مہارت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
وزیراعلیٰ ہاؤس کے بیان کے مطابق دونوں صوبائی حکومتوں نے صرف صحت کے شعبے تک بات محدود نہیں رکھی بلکہ گلگت بلتستان میں ریونیو بورڈ کے قیام اور مؤثر ریونیو انتظامیہ بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ مراد علی شاہ نے سندھ ریونیو بورڈ کے چیئرمین کو گلگت بلتستان کے حکام کے ساتھ ادارہ جاتی تجربہ اور تکنیکی معاونت شیئر کرنے کی ہدایت دی۔
ملاقات میں گلگت بلتستان کے سیلاب متاثرہ خاندانوں کے لیے مکانات کی تعمیر کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز کی ٹیم نے گلگت بلتستان انتظامیہ کے ساتھ مل کر رہائشی ضروریات کا سروے شروع کر دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت کے تحت علاقے میں 200 گھروں کی تعمیر کا منصوبہ زیر عمل بتایا گیا ہے۔
مراد علی شاہ نے متعلقہ ادارے کو ہدایت دی کہ تیاری کا کام بروقت مکمل کر کے گھروں کی تعمیر جنوری یا فروری میں شروع کرنے کی کوشش کی جائے۔ کارڈیک ہسپتال کے معاملے میں ابھی تعاون کی سمت اور ایم او یو کی تجویز سامنے آئی ہے؛ رپورٹ میں منصوبے کی لاگت، تعمیراتی دائرہ کار یا تکمیل کی حتمی تاریخ نہیں دی گئی۔ اس لیے اسے مکمل شدہ اپ گریڈیشن کے بجائے بین الصوبائی تکنیکی تعاون کے نئے مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سندھ حکومت کے مطابق مقصد این آئی سی وی ڈی کے تجربے سے فائدہ اٹھا کر گلگت بلتستان کے مریضوں کے لیے مقامی سطح پر قلبی علاج کی سہولت بہتر بنانا ہے۔ اگر ایم او یو حتمی شکل اختیار کرتا ہے تو عملے کی تربیت، ادارہ جاتی نظام اور طبی خدمات کے معیار میں تعاون کی تفصیلات دونوں فریق طے کریں گے۔
