اسلام آباد: قومی ایگزیکٹو کمیٹی نے بحری قزاقی کو انسداد منی لانڈرنگ نظام کے تحت بنیادی جرم قرار دینے کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد اس جرم سے حاصل ہونے والی آمدن اور مالی لین دین کو منی لانڈرنگ کے قانونی فریم ورک میں زیادہ براہ راست طریقے سے دیکھا جا سکے گا۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس میں اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام سے متعلق متعدد اصلاحات کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق بحری قزاقی سے متعلق مجوزہ قانونی بندوبست میں زیادہ سے زیادہ 10 سال قید اور 2 کروڑ 50 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا شامل کرنے کی تجویز ہے۔ یہ قانونی ترامیم ابھی متعلقہ قانون سازی اور باضابطہ نفاذ کے مراحل سے گزریں گی، اس لیے انہیں حتمی عدالتی سزا یا کسی مخصوص مقدمے کا نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

اجلاس میں ورچوئل اثاثوں اور کرپٹو سرگرمیوں کے لیے پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی، یعنی PVARA، کے ریگولیٹری فریم ورک پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ اس شعبے کو مالی جرائم کے خطرات، صارفین کے تحفظ اور نگرانی کے تقاضوں کے مطابق منظم کرنے کے لیے قواعد و ضوابط تیار کیے جا رہے ہیں۔

کمیٹی نے مالیاتی لین دین کی رپورٹنگ سے متعلق بعض حدوں اور طریقہ کار پر بھی غور کیا۔ بڑی نقد لین دین کی نگرانی، مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹس اور مالی اداروں کے رسک بیسڈ کمپلائنس نظام کو مضبوط کرنا پاکستان کے وسیع تر اینٹی منی لانڈرنگ فریم ورک کا حصہ ہے۔ اجلاس میں متعلقہ اداروں کو بین الادارہ رابطہ بہتر بنانے اور قانونی خامیوں کو دور کرنے کی ہدایت دی گئی۔

بحری قزاقی کو بنیادی جرم بنانے کا مقصد یہ ہے کہ اگر غیر قانونی سمندری سرگرمی سے حاصل ہونے والی رقم مالی نظام میں داخل کی جائے تو قانون نافذ کرنے والے اور مالی نگرانی کے ادارے اس رقم کے ماخذ اور منتقلی کے خلاف انسداد منی لانڈرنگ اختیارات استعمال کر سکیں۔ پاکستان کے لیے یہ اصلاحات بین الاقوامی مالیاتی شفافیت کے تقاضوں، سمندری سلامتی اور مالی جرائم کے خلاف ادارہ جاتی صلاحیت سے جڑی ہوئی ہیں۔ حتمی اثر اس وقت واضح ہوگا جب قانونی ترامیم منظور ہو کر نافذ ہوں اور متعلقہ قواعد جاری کیے جائیں۔