اسلام آباد میں سپریم کورٹ نے ایک زیادتی کیس میں وکلا سے اس اہم قانونی سوال پر مزید معاونت طلب کی ہے کہ آیا کسی ملزم کو صرف ڈی این اے شواہد کی بنیاد پر مجرم قرار دیا جا سکتا ہے۔ جسٹس ملک شہزاد احمد خان اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ایک ایسے شخص کی اپیل کی سماعت کی جسے ہائیکورٹ نے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ مقدمہ 25 سالہ ایسی خاتون سے متعلق ہے جو سماعت اور گویائی کی معذوری رکھتی ہیں۔
سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ متاثرہ خاتون نے ٹرائل کورٹ میں خود بیان ریکارڈ نہیں کرایا اور عدالت نے ان کی والدہ کی گواہی پر انحصار کیا۔ وکیل نے سپریم کورٹ کے ایک سابق فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے دلیل دی کہ محض ڈی این اے میچ کی بنیاد پر سزا نہیں دی جا سکتی۔ جسٹس شکیل احمد نے نشاندہی کی کہ جس سابق فیصلے کا حوالہ دیا گیا، اس کے حقائق موجودہ مقدمے سے مختلف تھے۔
متاثرہ فریق کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بچے کے ڈی این اے ٹیسٹ کا نتیجہ ملزم سے میچ ہوا تھا۔ عدالت کے سامنے یہ بات بھی آئی کہ ملزم متاثرہ خاتون کا ہمسایہ اور ماموں بتایا گیا ہے۔ جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے کہا کہ ہائیکورٹ کے فیصلے میں خاتون کو ذہنی معذوری کا حامل بھی قرار دیا گیا، جبکہ والدہ کے بیان کے مطابق خاتون نے دو گواہوں کی موجودگی میں ملزم کی شناخت کی تھی۔
بینچ نے اس پہلو پر بھی غور کیا کہ سماعت اور گویائی سے محروم شخص کا بیان سمجھنے کے لیے ماہر کی مدد کیوں نہیں لی گئی۔ جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ عدالت کے لیے متاثرہ خاتون کی یہ صلاحیت جانچنا اہم ہے کہ وہ پیش آنے والے واقعے کو کس حد تک سمجھ اور ابلاغ کر سکتی تھیں۔
سپریم کورٹ نے بالآخر تین نکات پر مزید قانونی معاونت مانگی: کیا صرف ڈی این اے شواہد سزا کے لیے کافی ہو سکتے ہیں؛ کیا متاثرہ خاتون صرف سماعت و گویائی کی معذوری رکھتی تھیں یا ذہنی معذوری بھی موجود تھی؛ اور ٹرائل کے دوران ان کے ابلاغ کی تشریح کے لیے ماہر کیوں طلب نہیں کیا گیا۔ عدالت نے سماعت ملتوی کر دی۔ یہ کارروائی اپیل کی سماعت ہے اور سپریم کورٹ نے ابھی ملزم کے جرم یا بریت پر حتمی فیصلہ نہیں دیا۔
